ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
Divorce is twice. Then, either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them unless both fear that they will not be able to keep [within] the limits of Allah. But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allah, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allah, so do not transgress them. And whoever transgresses the limits of Allah - it is those who are the wrongdoers
Divorce is an abnormal event which takes place in an abnormal situation. But, in this most emotional matter too, the Quran commands us to adhere to going in fear of God (taqwa), and to being both just and kind. From this we may gauge what kind of behaviour God desires from a believer in this life. We are commanded to break the marriage bond, if this has become unavoidable, in three stages and not all at once.
طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔