إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ يَرۡجُونَ رَحۡمَتَ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Indeed, those who have believed and those who have emigrated and fought in the cause of Allah - those expect the mercy of Allah. And Allah is Forgiving and Merciful
When the faithful are persecuted in this way, and forced to leave their homes, they sometimes even have to take to arms in self-defence. So when the believers were debarred from worship by the polytheists, they were repeatedly subjected to aggression, such circumstances compelled them at times to take up arms in self-defence. This was a two-sided process which separated the people of God from the enemies of God. On the one hand, some were exposed as servants only of themselves; for who else but one who has no fear of God—pursuing only his own selfish ends—would persecute God’s servants? On the other hand, out of this persecution came emigration and peaceful missionary struggle—acts of true faith on the part of those who remained devoted to God through all torment and oppression; there were others, of course, who, unable to withstand the pressure, forsook their faith. (That is, such persecution gave the believers the opportunity to show the strength of their faith, and in spite of the adverse atmosphere, their continuing trust in God. This made them stand out from those who, weak in faith, proved unable to withstand the pressure, and lost their trust in God.)
رجب 2 ہجری میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں کے ایک دستہ اور مشرکین قریش کی ایک جماعت کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا۔ یہ واقعہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں پیش آیا۔ قریش کا ایک آدمی مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ یہ جمادی الثانی کی 30 تاریخ ہے۔ مگر چاند
29
کا ہوگیا تھا اور وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔رجب کا مہینہ ماہ حرام میں شمار ہوتا ہے اور صدیوں کے رواج سے اس معاملہ میں عربوں کے جذبات بہت شدید تھے۔ اس طرح مخالفین کو موقع مل گیا کہ وہ مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کریں کہ یہ لوگ حق پرستی سے اتنا دور ہیں کہ حرام مہینوں کی حرمت کا بھی خیال نہیں کرتے۔ جواب میں کہاگیا کہ ماہ حرام میں لڑنا یقیناً گناہ ہے۔ مگر مسلمانوں سے یہ فعل تو بھول سے اور اتفاقاً ہوگیا اور تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ جان بوجھ کر اور مستقل طورپر تم اس سے کہیں زیادہ بڑے جرم کررہے ہو۔ تمھارے درمیان اللہ کی پکار بلند ہوئی ہے مگر تم اس کو ماننے سے انکار کررہے ہو اور دوسروں کو بھی اس کو اختیار کرنے سے روکتے ہو۔ تمھارے ضد اور عناد کا یہ حال ہے کہ اللہ کے بندوں کے اوپر اللہ کے گھر کا دروازہ بند کرتے ہو، ان کو ان کے اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہو۔ حتی کہ جو لوگ اللہ کے دین کی طرف بڑھتے ہیں ان کو طرح طرح سے ستاتے ہو تاکہ وہ اس کو چھوڑ دیں۔ حالاں کہ کسی کو اللہ کے راستہ سے ہٹانا اس کو قتل کردینے سے بھی زیادہ برا ہے — اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا جرم ہے کہ آدمی خود بڑی بڑی برائیوں میں مبتلا ہو اور دوسرے کی ایک معمولی خطا کو پاجائے تو اس کو شہرت دے کر اس کو بد نام کرے۔
مخالفتوں کا یہ نتیجہ ہوتاہے کہ اہل ایمان کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ دین پر قائم رہنے کے لیے ان کو جہاد کی حد تک جانا پڑتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ضروری ہے۔ یہ ایک دو طرفہ عمل ہے جو خدا پرستوں او رخدا دشمنوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتاہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ثابت ہوتاہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے نہیں بلکہ اپنی ذات کے پجاری ہیں۔ جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے اللہ سے بے خوف ہو کر اللہ کے بندوں کو ستاتے ہیں۔ دوسری طرف اسی واقعہ کے درمیان ایمان اور ہجرت اور جہاد کی نیکیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے حالات کی شدت کے باوجود اللہ پر اپنے بھروسہ کو باقی رکھا اور کس نے ا س کو کھودیا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →