أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۖ مَّسَّتۡهُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ
Or do you think that you will enter Paradise while such [trial] has not yet come to you as came to those who passed on before you? They were touched by poverty and hardship and were shaken until [even their] messenger and those who believed with him said, "When is the help of Allah?" Unquestionably, the help of Allah is near
Truth, supported by clear proofs, is revealed to men, yet still they refuse to accept it. Why is this? It is because they see truth as destructive to the dream world they have built up; they view it as damaging to their own interests and honour, as threatening to the comfortable, secure lives to which they have become accustomed. But in order to be faithful to God, we are required to make sacrifices of this nature. It is the road that men are reluctant to tread, because of its dangers and difficulties. But that is the only road which leads to Paradise. The price of Paradise is one’s own self. There is only one way to earn Paradise, and that is by total self-abnegation. This involves changing the very foundation of one’s life, thinking and acting in accordance with the pattern God has laid down, and giving up former habits. This task cannot be performed without exhorting others to do good deeds, and criticising their misdeeds. People in every age have been especially averse to criticism and admonition of this nature. Teachers of truth, then, have to be prepared for adverse reactions from their congregations.
دین میں اختلاف تعبیر وتشریح کے اختلاف سے شروع ہوتا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہنی سانچہ کے مطابق خدا کے دین کا ایک تصور قائم کرلیتا ہے۔ ایک ہی کتابِ ہدایت کو مانتے ہوئے بھی لوگوں کی رائیںالگ الگ ہوجاتی ہیں۔ اس وقت اللہ اپنے چنے ہوئے بندے کے ذریعہ امر حق کا اعلان کراتا ہے۔ یہ آواز اگر چہ انسان کی زبان میں ہوتی ہے اور بظاہر عام آدمیوں جیسے ایک آدمی کے ذریعہ بلند کی جاتی ہے۔ تاہم جو سچے متلاشیٔ حق ہیں وہ اس کے اندر شامل خدائی گونج کو پہچان لیتے ہیں اور اپنے اختلاف کو بھول کر فوراً اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو اپنے خود ساختہ دین کے ساتھ اپنے کو اتنا زیادہ وابستہ کرچکا ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔ اس کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسی چیز کا انکار کردیتا ہے جس کا وہ اپنے خیال کے مطابق علم بردار بناہوا تھا۔
حق جب روشن دلائل کے ساتھ آجائے اور اس کے باوجود آدمی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو نظر آتاہے کہ اس کا ساتھ دینے میں اس کی خوش گمانیوں کا محل ڈھ جائے گا۔ اس کے مفادات کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ اس کی آسودہ زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ اس کاوقار باقی نہیں رہے گا۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو اللہ کو اپنے وفادار بندوں سے مطلوب ہے۔ جس راستہ کی دشواریوں سے گھبرا کر آدمی اس پر آنا نہیں چاہتا وہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت کی واحد قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے۔ آدمی اپنے وجود کو فکر وعمل کے جن نقشوں کے حوالے کيے ہوئے ہے وہاں سے اکھاڑ کر جب وہ اس کو خدا کے نقشہ میں لانا چاہتا ہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس میں اس وقت اور زیادہ اضافہ ہوجاتاہے جب کہ اس کے ساتھ وہ خدا کے دین کا داعی بن کر کھڑا ہوجائے۔ داعی بننا بالفاظ دیگر دوسروں کے اوپر ناصح اور ناقد بننا ہے اور اپنے خلاف نصیحت اور تنقید کو سننا ہر زمانہ میں انسان کے لیے مبغوض ترین امر رہاہے۔ اس کے نتیجہ میں مدعوکی طرف سے اتنا شدید رد عمل سامنے آتاہے جو داعی کے لیے ایک بھونچال سے کم نہیں ہوتا۔