أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوبَ ٱلۡمَوۡتُ إِذۡ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعۡبُدُونَ مِنۢ بَعۡدِيۖ قَالُواْ نَعۡبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗا وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ
Or were you witnesses when death approached Jacob, when he said to his sons, "What will you worship after me?" They said, "We will worship your God and the God of your fathers, Abraham and Ishmael and Isaac - one God. And we are Muslims [in submission] to Him
Attaching oneself to saints and prophets, living or dead, lulls one into a false sense of security. It leads one to imagine that just as one has been attached to them in this life, one will remain attached to them in the next. It makes one feel that their surplus of good deeds will make up for one’s own shortcomings. The People of the Book were immersed in this form of wishful thinking to the extent that they had invented a dogma of ancestral salvation, pinning all their hopes on the holiness of their elders. But it is sheer self-deception to think that one person will receive the reward of another’s actions. In reality, everyone will reap the rewards, and bear the burden of punishment for his own actions. No one will be made to share in the reward, or punishment, which is awarded to another by virtue of his actions on earth. One who submits to God finds that he has to face all kinds of difficulties in this life. His worldly hopes and ambitions will not necessarily be fulfilled. Yet one who is firm in the faith will not be put off by adversity; he will persevere, making sure that he leaves this world as a believer, so that he can look forward to God’s blessings in the next world.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی جس دین ابراہیمی کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ ’’اسلام‘‘ تھا۔ یعنی اللہ کے لیے کامل حوالگی و سپردگی۔ قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انہوں نے اسی کی وصیت کی۔ اس کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جودین منسوب کررکھا تھا اس میں حوالگی وسپردگی کا کوئی سوال نہ تھا۔ اس میں خواہش پرستی کی زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہوجاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دارومدار تمام تر عمل پر تھا، جب کہ یہود نے ’’اللہ کے مقبول بندوں ‘‘ کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لیے کافی سمجھ لیا تھا۔ اوّل الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایت کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گروہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔
ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کرکے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انھیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کی کمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہوجائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انھوں نے نسلی نجات کا عقیدہ وضع کرلیا۔ انھوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں ۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ہر ایک كو وہی ملے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کودوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کيے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ’’تم نہ مرنا مگر اسلام پر‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی۔ تمھاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا۔