وَإِذۡ جَعَلۡنَا ٱلۡبَيۡتَ مَثَابَةٗ لِّلنَّاسِ وَأَمۡنٗا وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِـۧمَ مُصَلّٗىۖ وَعَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ
And [mention] when We made the House a place of return for the people and [a place of] security. And take, [O believers], from the standing place of Abraham a place of prayer. And We charged Abraham and Ishmael, [saying], "Purify My House for those who perform Tawaf and those who are staying [there] for worship and those who bow and prostrate [in prayer]
Every year, the faithful come from all over the world to visit the Ka‘bah in Makkah, where no one is allowed to harm even the lowliest living creature; for Makkah has been made into a sacred place of worship for all time. Since people come to this place to remember God in an atmosphere of peace and solitude, it has to be cleansed of all impurities, and all activities that are contrary to this basic purpose are banned. Here the faithful bow and prostrate themselves, their greatest mark of respect for their Creator being the circumambulation of the Ka‘bah.
ساری دنیا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لیے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طورپر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے اور اللہ کے لیے رکوع وسجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں ريتیلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتہائی طورپر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار بر س پہلے حضرت ابراہیمؑکو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسادو۔ حضرت ابراہیم نے بلا جھجھك اس پر عمل كيا۔ اور جب خاندان کو اس بے آب وگیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی خدایا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن وامان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لیے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے۔
مومن کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ بار بار یاد کرتا رہے کہ خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو اس کو بہر حال ایک روزلوٹ کر خدا کے یہاں جانا ہے۔ وہ جن انسانوں کے درمیان رہے، بے ضرر بن کر رہے۔ وہ زمین کو خدا کی عبادت کی جگہ سمجھے اور اس کو اپنی آلودگيوں سے پاک رکھے۔ اس کی پوری زندگی خدا کے گرد گھومتی ہو وہ بظاہر دنیا میں رہے مگر اس کا دل اپنے رب میں اٹکا ہوا ہو۔ وہ ہمہ تن اللہ کے آگے جھک جائے۔ پھر یہ کہ دین جس چیز کا تقاضا کرے، خواہ وہ ایک ’’چٹیل میدان‘‘میں بیوی بچوں کو لے جاکر ڈال دینا ہو، بندہ پوری وفاداری کے ساتھ اس کے لیے راضی ہوجائے۔ اور جب تعمیل حکم کرچکے تو خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ عجب نہیں کہ خدا اپنے بندے کی خاطر چٹیل بیابان میں رزق کے چشمے جاری کردے۔
دنیا کی رونق، خواہ کسی کو دین کے نام پر ملے، اِس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اللہ نے اس کو امامت و پیشوائی کے منصب کے لیے قبول کرلیا ہے۔ دنیا کی چیزیں صرف آزمائش کے لیے ہیں جو سب کو ملتی ہیں۔ جب کہ امامت یہ ہے کہ کسی بندے کو قوموں کے درمیان خدا کی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیا جائے۔