إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّي لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَٰذَا رَشَدٗا
Except [when adding], "If Allah wills." And remember your Lord when you forget [it] and say, "Perhaps my Lord will guide me to what is nearer than this to right conduct
According to the respective Quranic commentaries of Qatada and Mutrif ibn ‘Abdullah, the mention here of 300 years, or 309 years, is only a report of what people said and not information from God. On the basis of unauthentic stories, the people of the Book of those days used to believe that the period of stay of the ‘Men of the Cave’ in the cave was 300 years, according to the solar calendar, or 309 years according to the lunar calendar. (Tafsir ibn Kathir, vol. 3, p.
79
). The Quran has merely reported this popular view, but at the same time has rejected it as baseless, saying, ‘God knows best how long they stayed in it.’ The researchers of the present age have discovered that, according to the solar calendar, this period was of 196 years. This discovery proves that the Quran is the book revealed by God, who is aware of all past and future happenings, and that because of this knowledge He did not accept the aforesaid belief. Had the Quran been the product of human effort, it would have adopted the most popular belief prevalent at that time, which would have ultimately clashed with the findings of subsequent research.
قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔
پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ
301
)۔
وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ
27
۔
یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →