إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدٗا
[Mention] when the youths retreated to the cave and said, "Our Lord, grant us from Yourself mercy and prepare for us from our affair right guidance
‘Why do they not produce clear evidence?’ This question indicates that after embracing the new faith, there were prolonged discussions between these young men and the leaders of their community. But the statements made by these leaders in the course of discussions did not contain any convincing arguments in favour of polytheism (shirk). Therefore, they (the Men of the Cave) found it impossible to give up a faith whose merits stood proved for the sake of a belief which had no such advantage. On being opposed as above, had they given importance to the ‘greatness’ of the leaders of their community, they would have fallen a prey to hesitancy and doubt. But, when they gave more weight to sound reasoning and convincing arguments, it enhanced their faith. For, in respect of reasoning and arguments, these ‘great men’ appeared small to them. In spite of their outward greatness, they were found to be standing on false grounds and not on the grounds of truth.
اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔
اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ
139
)