وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلۡأَعۡنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنۡهُ سَكَرٗا وَرِزۡقًا حَسَنًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision. Indeed in that is a sign for a people who reason
This gives a hint that the things created by God in this world can be used rightly as well as wrongly. Dates and grapes, if eaten in their natural forms, provide healthy and wholesome food, which give energy to the body and mind. But if through some human process, they are converted into intoxicants, they become harmful to the body and mind.
دودھ دینے والے جانوروں میں یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ ایک طرف ان کے اندر گوبر اور خون بناتا ہے، دوسری طرف اسی کے درمیان سے دودھ جیسا قیمتی سیال بھی بن کر نکلتاہے جو انسان کے لیے بے حد قیمتی غذا ہے۔ یہی حال درختوں کا ہے۔ ان کے اندر مٹی اور پانی جیسی چیزیں داخل ہوتی ہیں اور پھر ان کے اندرونی نظام کے تحت وہ رس دار پھل کی صورت میں شاخوں میں لٹک پڑتی ہیں۔
یہ واقعات اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کو خدا کی یاد دلائیں۔ آدمی اس میں خدا کی قدرت کی جھلکیاں دیکھنے لگے، حتی کہ اس کا یہ احساس اتنا بڑھے کہ وہ پکار اٹھے کہ خدایا تو جو گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ جیسی چیز نکالتا ہے، میرے ناموافق حالات کے اندر سے موافق نتائج ظاہر کردے۔ تو جو مٹی اور پانی کو پھل میں تبدیل کردیتاہے، میری بے قیمت زندگی کو باقیمت زندگی بنا دے۔
’’تم ان سے نشہ کی چیز بھی بناتے ہو اور رزقِ حسن بھی‘‘۔ ا س میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں خدا نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا صحیح استعمال بھی ہے اور ان کا غلط استعمال بھی۔ کھجور اور انگور کو ا س کی قدرتی صورت میں کھایا جائے تو وہ صحت بخش غذا ہے جس سے جسم اور عقل کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسانی عمل سے اس کو نشہ میں تبدیل کردیا جائے تو وہ جسم کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور عقل کو بھی بگاڑدینے والی ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →