وَكَذَٰلِكَ يَجۡتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعۡقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيۡكَ مِن قَبۡلُ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
And thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of narratives and complete His favor upon you and upon the family of Jacob, as He completed it upon your fathers before, Abraham and Isaac. Indeed, your Lord is Knowing and Wise
Here the expression ‘He will bestow the full measure of His blessings upon you’ applies to Joseph as it had previously applied to Abraham. The difference between the two was that Joseph was invested with political power, while Abraham was not. There was, however, an all-important factor common to both, namely, the prophethood conferred upon each of them by God. That was the sense in which God’s ‘blessings’ had been bestowed in ‘full measure’. It was the prophethood, that is, the conferring of special divine guidance, which would lead them to a high status in the Hereafter. God’s guidance to man is, in effect, the perfection of His favour to him. This favour is available directly to His prophets and indirectly to their true followers.
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →