مِن دُونِهِۦۖ فَكِيدُونِي جَمِيعٗا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
Other than Him. So plot against me all together; then do not give me respite
The communities into which God’s prophets had come were all believers in God. In other words, the missionary projected himself as a God-worshipper, while his addressees also made the same claim. So the question arises: in which group is God present? The simple answer to this question is that God is on a straight highway (as-sirat al-mustaqim). So, the religion which is going on the straight path will directly reach God and that which is going on crooked paths will be diverted on to by-paths and can never be successful in reaching God. When Hud said, ‘My Lord is on the straight path,’ he was saying in other words that the path towards which he was calling them was ‘the highway of religion.’ But his people, in the name of religion, had adopted by-ways around the highway of religion and were running headlong along them. Such a headlong course does not take a man towards God; it takes him here and there and leaves him astray. In the light of these verses, the straight path shown by Hud comprises the following: belief in the unity of God, worship of God, seeking God’s pardon, repentance, turning towards God (tawbah), gratitude for God’s grace, placing trust in God, treating God as our Sustainer, treating God as the only possessor of all power, accepting God’s watchfulness over oneself, and remaining humble. All these are the basic teachings of religion. Following these teachings and making them the centre of one’s attention amounts to treading the highway of religion. One who treads this path straightaway reaches God. On the contrary, if a man gives importance to other things, it is as if he is taking the side paths to the right or the left of the highway and hastening along them. Such a course takes a man away from God, not closer to God.
قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔
جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔
خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔
اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔
یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →