حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ
[So it was], until when Our command came and the oven overflowed, We said, "Load upon the ship of each [creature] two mates and your family, except those about whom the word has preceded, and [include] whoever has believed." But none had believed with him, except a few
When the Ark was ready, stormy winds started blowing at God’s behest. Torrents of water started gushing out of the ground and there was continuous rainfall. So much so that there was water everywhere and all the people were drowned. The only survivors were a few human beings and some animals who had boarded Noah’s Ark. Even Noah’s son was drowned. In the eyes of God a man’s worth is judged according to his deeds and not according to relationship, even if the relationship is with a prophet. When all those destined to perish had drowned, God commanded the storm to stop and it stopped; the water drained into seas and rivers and the earth again became habitable.
جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔
جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔
طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔
دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔