وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤۡمِنَ مِن قَوۡمِكَ إِلَّا مَن قَدۡ ءَامَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
And it was revealed to Noah that, "No one will believe from your people except those who have already believed, so do not be distressed by what they have been doing
Those who said that the Prophet was himself guilty of invention, and that his message had not been sent by God, did not actually disbelieve in revelation or inspiration; they even accepted the previous prophets. Then why did they speak in this way? This was, in fact, not a rejection of Revelation but a rejection of the receiver of Revelation. The individual who spoke on behalf of God appeared to them to be an ordinary man. With their tendency to worship appearances, they were unable to understand how such an ordinary man could be the person whom God had chosen as His messenger. The Prophet Noah said, ‘If I have invented this myself, then may I be punished for my sin! I am innocent of the crimes that you commit.’ These are, in fact, the words of parting, when the addressee does not accept the preacher’s word through argument. If, in spite of clear explanation, the addressee is bent upon rejecting the word of the preacher, then the preacher feels that the final option should be to keep quiet, after stating that both preacher and addressee are bound to be presented before their real Lord and that everybody will be exposed for what he is and everybody will be treated according to what he deserves. When reasoning has run its full course, the preacher is left with no option but to speak in terms of firm faith and keep himself aloof.
انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔
حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔
حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔
ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →