هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلشَّمۡسَ ضِيَآءٗ وَٱلۡقَمَرَ نُورٗا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُواْ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلۡحِسَابَۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ يُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know
The sun is at the most appropriate distance from our earth. That is why it has been a treasure-like source of light and heat for us. If a difference were to occur in this alignment, the sun would not be the sun for us: it would become the fire of hell. Instead of being the messenger of life, it would be the messenger of death. The moon rotates in its orbit in a precise, mathematical way. In spite of its being devoid of its own light, it not only gives us cool light, reflected from the sun, but also provides us with a natural calender of months and days. These astronomical signs prove that there is strong purposefulness in the universe, and the fate of the purposeful universe cannot be purposeless. Then, the appearance of day after night indicates, in the language of symbolism, the moral fact that, according to the law prevailing in this world of ours, light should prevail after the reign of darkness; the brightness of light should follow upon darkness. Where, before, human rights had been trampled upon, there will now ensue a sytem whereby rights will be honoured. Divine justice will dominate in place of human arrogance. Such a time is destined to come, when the prevalence of evil will come to an end and the recognition of truth will prevail everywhere.
سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔
پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔
آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔
خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔
زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →