وَمِنۡهُم مَّن يُؤۡمِنُ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن لَّا يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ
And of them are those who believe in it, and of them are those who do not believe in it. And your Lord is most knowing of the corrupters
One who does not embrace the Faith is, in the eyes of God, mufsid (a disturber of the peace) because it is only by disturbing his nature that it is possible for anyone to prevent himself from accepting the truth. Such a man curbs the voice of his conscience; he does not put to use his thinking capacity; he ignores clear reasoning by uttering false words; he is not receptive even after listening and does not try to understand even after having had everything explained to him. He gives preference to his prejudices, and his self-interests overwhelm the truth. Those who argue falsely, and at length, go on arguing till the last, saying: ‘You mind your own business and I’ll mind mine.’ To make such a statement seems to them like a way of avoiding defeat. But a missionary performs his work, rising above the psychology of victory or defeat. So, when he observes that the opponent has stooped to adopt an adamant and stubborn attitude and finds that there is no use in arguing further, he disassociates himself by saying that real decision is with God; and that his opponent’s final fate will be in accordance with his position in God’s assessment.
ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں ۔ کیوں کہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کردیتاہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلے میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں۔ ’’میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمھارا معاملہ تمھارے ساتھ‘‘۔ اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتاہے، مگر داعی فتح وشکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتاہے۔ اس ليے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاںہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔
حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کردیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ مچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتاہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے كيے ہوئے ہوتاہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جوکان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔
خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پاکر غلط فہمی میں پڑجاتاہے۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتاہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا، جو چیز اس کوآزمائش کے طورپر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →