وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
And We had already destroyed generations before you when they wronged, and their messengers had come to them with clear proofs, but they were not to believe. Thus do We recompense the criminal people
The prophets addressed their communities with clear arguments, (baiyinat), but they did not accept them. This shows that the missionary call—given on behalf of God—rests on the basis of reasoning. People have to recognize the prophet at the level of arguments and reasoning. Those who want to find him basking in outward glories surrounded with huge numbers of supporters will never be able to find him, because he will not be there at all. The prophet does not perform miracles, but engages rather in the process of argument. At the stage of the missionary call, all work is done on this basis. Individuals and groups transgress in not recognizing the Divine call appearing in the form of arguments or reasoning. They reject it, not having found it in accordance with their self-devised standards. Due to this behaviour, such people are punished by the law of God. The communities of the past which had incurred God’s retribution for their rejection of the prophets, were not actually total rejectors of prophethood. All these communities had accepted some prophet or the other of earlier periods, but they rejected the prophet of their own times. In the case of the earlier prophets, the corroborative historical facts had accumulated to back them. They had become objects of national prestige, and public predilections favoured them, while the contemporary prophet was as yet devoid of all such additional attributes. They recognised that past prophet who had as a result of tradition over the generations, become their national prophet, and connecting with him was synonymous with linking themselves with a tower of greatness. They recognised their national prophet as such, and rejected that prophet who could be recognised only through his reasoning and arguments. In the eyes of God, this was such a serious crime that those who were declared to be rejecters of the prophet were destroyed.
’’پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انھوں نے نہ مانا‘‘۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتاہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خداکے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتاہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے ليے آتاہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتاہے۔
کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانے اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کردے۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔
ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں۔ البتہ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوچکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر ابھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی تھا۔ انھوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انھوںنے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کردیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا جاسکتا تھا۔
یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کرديے گئے۔
’’پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا‘‘۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ یہ لفظ جانشین، خاص طورپر، اقتدار میں جانشین کے لیے بولا جاتاہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ خدا کی۔ کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہوسکتا۔انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتاہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لیے ہے، نہ کہ خدا کی جانشینی کے لیے۔
کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ہوتاہے۔ جانشین بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیا ردیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگریز ان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انھیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لیے جگہ خالی کی گئی۔ ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →