وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوۡ قَاعِدًا أَوۡ قَآئِمٗا فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمۡ يَدۡعُنَآ إِلَىٰ ضُرّٖ مَّسَّهُۥۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِينَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
The system of this world is so designed that from time to time man is hit by some calamity or accident. He begins to realise that he is absolutely helpless against external forces. At that time he spontaneously starts calling upon God; he admits his humbleness compared to God’s Power. But, he is humble only so long as he is in trouble. The moment he gets relief from trouble, he becomes as negligent and arrogant as he was earlier. God does not accept the obeisance of such people, because only that obeisance is acceptable which is offered in a free atmosphere. Obeisance offered under the pressure of compelling circumstances has no value in the eyes of God. Man is a creature who likes justification. He seeks justification for every action of his. If a man chooses to be arrogant, his mentality will be inclined towards that. He will, in practice indulge in arrogance, and his mind will provide him with beautiful words in order to prove his arrogance justified. This is known as taz’in. Man expresses his misdeeds in beautiful words and is satisfied that he is in the right. But, this is like a man holding a burning lump of coal in his hand and thinking that it will not burn him simply because he calls it a red flower.
خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص قابل انعام عمل کرے تو اس کا عمل فوراً اس کے اعمال نامہ میں شامل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص قابل سزا فعل کا ارتکاب کرتاہے تو خدا اس کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی موڑ پر متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے۔ خدا کا یہ قانون انسان کے لیے بہت بڑی رحمت ہے، ورنہ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ہر وقت برائی کرنے پر آمادہ رہتاہے، اور اگر لوگوں کو ان کی برائیوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو ان کی مہلتِ عمر بہت جلد ختم ہوجائے اور زمین کی پشت چلنے والے انسانوں سے خالی ہوجائے۔
دنیا کی زندگی میں سرکش وہ لوگ بنتے ہیں جو دنیا میں یہ سمجھ کر رہیں کہ مرنے کے بعد انھیں خدا کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔ جو پکڑ کے اندیشہ سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں،جو سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں کہ جو دھاندلی چاہیں کریں اور جو فساد چاہیں پھیلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان سچائی اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک ہی حقیقی محرک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی یہ سمجھے کہ سب طاقت وروں کے اوپر ایک طاقت ور ہے۔ ہر آدمی اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ ایک دن تمام انسانوں کو پکڑ ے گا اور ہر ایک مجبور ہوگا کہ اپنے بارے میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آجاتا ہے ، آدمی محسوس کرنے لگتاہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔اُس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اعتراف کرلیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویسا ہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں کہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔
آدمی ایک توجیہہ پسند مخلوق ہے۔ وہ ہر عمل کا ایک جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر آدمی سرکشی کو اپنے لیے پسند کرلے تو اس کا ذہن بھی اسی طرف مڑ جائے گا۔ وہ عملاً سرکشی کرے گا اور اس کا ذہن اس کی سرکشی کو درست ثابت کرنے کے لیے اس کو خوب صورت الفاظ فراہم کرتارہے گا۔ اسی کا نام تزئین اعمال ہے۔ آدمی اپنی غلطیوں کو خوش نما الفاظ میں بیان کرکے اپنے کو مطمئن کرلیتاہے کہ وہ حق پر ہے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں لے لے اور سمجھے کہ وہ اس کو نہیں جلائے گا، کیوں کہ اس کا نام اس نے سرخ پھول رکھ دیا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →