قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي شَكّٖ مِّن دِينِي فَلَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنۡ أَعۡبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُمۡۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Say, [O Muhammad], "O people, if you are in doubt as to my religion - then I do not worship those which you worship besides Allah; but I worship Allah, who causes your death. And I have been commanded to be of the believers
The preacher first of all gives his sermon in the language of reason. But if his hearers, even after hearing his arguments remain in doubt, what he must do finally is to express the veracity of his message in sterner language. When a preacher of the Oneness of God tells the polytheists (those who ascribe partners to God): ‘I do not worship that which you worship’ this is not simply a declaration, but an argument in itself. It means: ‘I am also a man like you. I have a mind as you have. Then, why is it that the veracity of something which is understandable to me is not understandable to you?’ If Truth is understandable at the level of one man, it proves that it should be understandable to others also. In spite of this, if others reject it, then it must surely be due to some shortcoming on their part and not to any deficiency in the call to the Truth. If a thing seen by one who has eyes, is not seen by another who likewise has eyes, it simply proves that the latter is not the true possessor of eyes, because it is not possible in this world that a thing which is seen by one person having eyes cannot be seen by another person in spite of his also having eyes.
داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتاہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک وشبہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کردے۔
توحید کے داعی کا شرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ ’’میں اس کی عبادت نہیںکرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو‘‘ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— میں بھی تمھارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمھارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمھاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔
سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہوجائے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی قابلِ فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا، نہ کہ دعوت حق کا نقص۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃً آنکھ والا نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔
موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طورپر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کردیتی ہے جن کے سہارے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتاہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ ا س دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔
ہر انسان پر ایک وقت آتاہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتاہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتاہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔
یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →