ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
[All] praise is [due] to Allah, Lord of the worlds
The Quran has a special and characteristic way of expressing a believer’s inner sentiments in the most appropriate words. The invocation of God in the opening chapter of the Quran, constitute a supplication of this nature. The feelings which are naturally aroused in one after discovering the truth are expressed in these lines. When man looks at the world around him, he cannot fail to notice God’s power and mercy abundantly in evidence everywhere. Wherever he casts his glance, he finds extraordinary order and supervision.
Everything has been extraordinarily and astonishingly adapted to man’s needs. This observation shows that the great cosmic machine cannot be in vain. Therefore, one realizes that there must come a day when the grateful and the ungrateful are rewarded for the way they have lived their lives in this world. One spontaneously entreats God in words to this effect, ‘Lord, You are the Master of the Day of Judgement. I have submitted to You and humbly seek Your help; have mercy on me. Lord, show us the path that is, to You, the true path. Enable us to tread the path of Your chosen servants. Help us to avoid the path of those who have gone astray, and the path of those who have incurred Your wrath due to their obstinacy.’ God requires His servant to live his life with such feelings and emotions.
The opening chapter of the Quran is a miniature portrayal of Islamic belief; the rest of the Quran is an enlargement of this picture.
بندے کے لیے کسی کام کا سب سے بہتر آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو اپنے رب کے نام سے شروع کرے۔ وہ ہستی جو تمام رحمتوں کا خزانہ ہے اور جس کی رحمتیں ہر وقت ابلتی رہتی ہیں، اس کے نام سے کسی کام کا آغاز کرنا گویا اس سے یہ دعا کرنا ہے کہ تو اپنی بے پایاں رحمتوں کے ساتھ میری مدد پر آجا اور میرے کام کو خیر وخوبی کے ساتھ مکمل کردے۔ یہ بندے کی طرف سے اپنی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی کے ساتھ اس کی کامیابی کی الٰہی ضمانت بھی۔
قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ مومن کے قلبی احساسات کےلیے صحیح ترین الفاظ مہیا کرتا ہے۔ بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ اسی نوعیت کے دعائیہ کلام ہیں۔ سچائی کو پالینے کے بعد فطری طورپر آدمی کے اندر جو جذبہ ابھرتا ہے، اسی جذبہ کو ان الفاظ میں مجسّم کردیاگیا ہے۔
آدمی کا وجود اس کے لیے اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی آدمی سے کہا جائے کہ تم اپنی دونوں آنکھوںکو نکلوادو یا دونوں پیروںکو کٹوا دو، اس کے بعد تم کو ملک کی بادشاہی دے دی جائے گی تو کوئی بھی شخص اس کے لیے تیار نہ ہوگا۔گویا کہ یہ ابتدائی قدرتی عطیے بھی بادشاہ کی بادشاہی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اسی طرح آدمی جب اپنے گردو پیش کی دنیا کو دیکھتا ہے تو یہاں ہر طرف خدا کی مالکیت اور رحیمیت ابلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس کو ہر طرف غیر معمولی اہتمام نظر آتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں حیرت انگیز طورپر انسانی زندگی کے موافق بنادی گئی ہیں۔ یہ مشاہدہ اس کو بتاتا ہے کہ کائنات کا یہ عظیم کارخانہ بے مقصد نہیں ہوسکتا۔ لازمی طورپر ایسا دن آنا چاہیے جب ناشکروں سے ان کی ناشکر گزارزندگی کی باز پرس کی جائے اور شکر گزاروں کو ان کی شکر گزار زندگی کا انعام دیا جائے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا! تو فیصلہ کے دن کا مالک ہے۔ میں اپنے آپ کو تیرے آگے ڈالتا ہوں اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں، تو مجھ کو اپنے سایہ میں لے لے۔ خدایا! ہم کو وہ راستہ دکھا جو تیرے نزدیک سچا راستہ ہے۔ ہم کو اس راستہ پر چلنے کی توفیق دے جو تیرے مقبول بندوں کا راستہ ہے۔ ہم کو اس راستے سے بچا جو بھٹکے ہوئے لوگوں کا راستہ ہے یا ان لوگوں کا جو اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے تیرے غضب کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اللہ کا مطلوب بندہ وہ ہے جو ان احساسات و کیفیات کے ساتھ دنیا میں جی رہا ہو۔ سورۂ فاتحہ اس بندۂ مومن کی چھوٹی تصویر ہے، اور بقیہ قرآن اس بندۂ مومن کی بڑی تصویر۔