دیش کی ترقی کے لئے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پرامن طور پر طے کر لینا
Peaceful resolution of conflicts.
اس مقصد کے لئے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہو گا۔ (سیوا گرام کا سفر، مارچ 1993)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔