اصولِ استدلال کے سلسلے میں مشہور غرناتی عالم الشاطبی نے ایک بہت بنیادی بات کہی ہے، وہ اپنی کتاب "الموافقات فی اصول الاحکام" میں علم الجدل کے قواعد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی دعوے کے حق میں جب کوئی دلیل دی جائے تو ضروری ہے کہ مخاطب اس کا دلیل ہونا تسلیم کرتا ہو۔ اگر دلیل فریقِ ثانی کے نزدیک نزاعی ہو تو وہ اس کے نزدیک دلیل نہیں ہوگی؛ ایسی دلیل کو پیش کرنا بے کار ہوگا، اس سے نہ کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کوئی مقصد حاصل ہوگا۔ وَكَانَ الدَّلِيلُ عِنْدَ الْخَصْمِ مُتَنَازَعًا فِيهِ، فَلَيْسَ عِنْدَهُ بِدَلِيلٍ فَصَارَ الْإِتِّيانُ بِهِ أَبَثًا لَا يُفِيدُ فَائِدَةً وَلَا يَحْصِلُ مَقْصُودًا. الجزء الرابع، صفحہ 198۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل وہ ہے جو مخاطب کے مسلمہ معیار کے مطابق ہو، جو دلیل کسی ایسی بنیاد پر قائم کی جائے جو مخاطب کے نزدیک مسلم نہ ہو، وہ اس کے لیے دلیل بھی نہیں بن سکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.