Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

ریاض

Urdu · 10 min read

مارچ 1984میں الجا معۃ الاسلامیہ کی دعوت پر مدینہ (سعودی عرب) کا سفر ہوا۔مدینہ سے واپسی میں، میں اور مولانا محمد ہاشم القاسمی 12 مارچ کی دوپہر کو ریاض پہنچے۔ ریاض قدیم زمانہ میں ایک گاؤں تھا جس کا نام حجر الیمامہ تھا۔ 14 مارچ 1984 کو سعودی عرب کے سب سے بڑے عالم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کو ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھ سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شیخ سے میر اسلام کہو اور یہ کہو کہ آج دوپہر کا کھانا وہ میرے ساتھ کھائیں ‘‘۔ چنانچہ ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد ان کے مکان پر پہنچے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا مکان تھا۔ ایک نہایت وسیع ہال میں نشست تھی۔ تقریباً بیس علما کرسیوں پر موجود تھے۔ مجھ کو شیخ ابن باز کی بالکل قریبی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد حسب معمول قہوہ آیا۔ آدمی نے پہلی پیالی شیخ ابن باز کی طرف بڑھائی۔ شیخ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا فَضَّلْ يَا شَيْخ۔ شیخ ابن باز نہایت عزت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ زیادہ ترمسلم دنیا اور میرے کام کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ کھانا کھانے کے بعد دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

ریاض سے روانگی کے دن دوبارہ شیخ ابن باز سے ان کے دفتر میں ملنے گیا۔ شیخ کا دفتر اتنا بڑا ہے کہ وہ حکومت کا سکریٹریٹ معلوم ہوتا ہے۔ شیخ ایک بہت بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کرسیوں پر نشست تھی۔ وہ عام طور پر لوگوں کو بیٹھے بیٹھے رخصت کر رہے تھے۔ مگر جب میں سامنے آیا تو شیخ فور اًکھڑے ہو گئے اور دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مجھ کو رخصت کیا۔

14 مارچ کو دکتور عبد الله بن عبد المحسن الترکی سے ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہ سعودی عرب کی سب سے بڑی یونی ورسٹی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے مدیر (Rector) ہیں۔ ان کا دفتر اتنا بڑا ہے جو خود ایک یونی ورسٹی معلوم ہوتا ہے۔ ملاقات کا کمرہ ہندستان کے وزیر اعظم کے کمرہ سے بھی زیادہ وسیع اور شاندار نظر آیا۔ تاہم اس کے اندر جو انسان بیٹھا ہو اتھا وہ سراپا تو اضع اورسنجیدگی کی تصویر معلوم ہوتا تھا۔

زیادہ تر ہندستان کے حالات اور اسلامی مرکز ( دہلی) کے بارے میں گفتگو رہی۔ آخر میں وہ نماز ظہر کے لیے اٹھے۔ میں یہ سمجھا کہ وہ عقبی کمرہ میں نماز ادا کرنے کے لیے جارہے ہیں۔ مگر وہ ہمارے ساتھ بیرونی دروازہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ ہم لوگ زینہ سے اتر کر قریب کی مسجد میں پہنچے جو مدیر کے دفتر سے متصل بنائی گئی ہے۔ یہاں کافی لوگ نماز کے لیے جمع تھے۔ دکتور تر کی چلتے رہے یہاں تک کہ وہ امام کی جگہ پہنچ گئے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ جوشخص یونی ورسٹی کا ریکٹر ہے وہ یہاں کی مسجد کا امام بھی ہے۔

دکتور عبد الحلیم عویس جامعۃ الامام میں علوم اجتماعیہ (Social Sciences)کے پروفیسر ہیں۔ ان سے بڑی دلچسپ اور مفید ملاقاتیں رہیں۔ ایک گفتگو میں انہوں نے بڑی عمدہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ انسان مال بنا تا ہے مگر مال انسان نہیں بناتا (الإِنْسَانُ يَصْنَعُ الْمَالَ، وَلَكِنَّ الْمَالَ لَا يَصْنَعُ الإِنْسَانَ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دکتور عبد الحلیم عویس مصری ہیں اور نہایت ذہین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مصریوں نے اردو پڑھی ہے اور وہ اردو اتنی ہی اچھی جانتے ہیں جتنا کہ اہل زبان (هُمْ يُجِيدُونَ الأُرْدِيَّةَ كَاهِلَهَا)۔ دکتور عبدالحلیم عویس نے اخبار الشرق الاوسط کے لیے میرا انٹر ویولیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ریاض میں ایک سعودی نوجوان عبد الله الشویعر سے ملاقات ایک یادگار ملاقات تھی۔ ان کے پاس میری تمام عربی کتا بیں کئی کئی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ خود پڑھنے کے علاوہ دوسروں کو بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ ایک روز گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واللہ ہم آپ سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ ہم کو تمام اسلامی مصنفین سے محبت ہے اور آپ اس میں چوٹی پر ہیں (وَأَنْتُمْ عَلَىٰ قِمَّتِهَا)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ساحل العاج کے ایک نوجوان ابو بکر السماسی سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں جامعۃ الامام میں کلیۃ الشریعۃ کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساحل العاج کی آبادی10ملین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے45 فی صد مسلمان ہیں۔ تاہم خودمسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی آبادی65 فی صد سے کم نہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ صدر حکومت مسلمان ہے اور وزارت میں کئی مسلمان شامل ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ نوجوان سے میں نے پوچھا کہ ساحل العاج میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ہاں۔ مسلمانوں نے یہاں کی یونی ورسٹی میں شاندار مسجد بنالی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ہرجمعہ کو اسلامی پروگرام ہوتا ہے۔ ان کوحکومت ہر طرح کی سہولت دیتی ہے، وغیرہ۔ مگر اس کو انہوں نے حکومت کے’’ تملق‘‘ سے تعبیر کیا۔ یہ بھی عجیب ذہن ہے کہ حکومت اگر کچھ کرے تو وہ متملق ہے اور نہ کرے تو ظالم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انہوں نے بتایا کہ ساحل العاج میں لوگ کثرت سے مسلمان ہو رہے ہیں۔ ایک مقام پر صرف ایک دن میں چار ہزار آدمی مسلمان ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی کوششوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا اَلْفَضْلُ يَرْجِعُ إِلَى اللهِ وَإِلَى الْكُتُبِ الْمُتَرْجَمَةِ إِلَى الْفَرَنْسِيَّةِ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 مارچ کو دوپہر کا کھانا شیخ ابو عبد الرحمٰن بن عقیل الظاہری کے یہاں تھا۔ وہ اعلیٰ پایہ کے مصنف اور عالم ہیں۔ مگر ہندستان میں اور عرب میں یہ فرق ہے کہ ہندستان کے علما بول چال کے موقع پر بھی کتابی زبان بولتے ہیں۔ مگر اکثر عرب علما لکھتے وقت تو کتابی زبان لکھتے ہیں مگر بولنے کے وقت ان پر عوامی زبان کا اثر آجاتا ہے۔ مثلاً ہمارے میزبان نے ایک موقع پر گھر کے ایک لڑکے سے کہا أَيْشَ تَبْغُونَ (تم کیا چاہتے ہو)۔ اس طرح کی زبان سمجھنا ان لوگوں کے لیے کسی قدرمشکل ہوتا ہے جو صرف کتابی عربی سے واقف ہیں۔

ایک صاحب جو محامی (وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے ، انہوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا النَّاسُ كُلُّهُمْ يَا أَخِي مُتَعَطِّشُونَ إِلَى الإِسْلَامِ (میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسے ہیں)۔

other sourceWords of another person or source

16 مارچ( بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تونجی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب با صرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو دکتور احمد تو تونجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ لائے تھے۔شیخ احمد تو تونجی نے کہا کہ یہ آپ کے لیے ہے۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جو عین میرا مطلوب تھیں۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا۔ دوسرا حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلدیں دمشق کی چھپی ہوئی۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی، جو میں بہت چاہتا تھا۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تونجی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں۔

دکتور احمد تو تو نجی آج ہی بیرون (افریقہ) جارہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دکتورطہٰ جابر العلوائی کو مقرر کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری معاونت فرمائیں۔

اصحاب رسول کی زندگیاں اسلام کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ اصحاب رسول کے بارے میں اسلاف نے کثرت سے کتابیں اور تراجم لکھے ہیں۔ تاہم اس موضوع پر قدیم کتابوں کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک صحابی کو عنوان بناکر اس کے تحت ان کے حالات لکھے جاتے ہیں۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی نے یہ کیا کہ عملی عنوانات قائم کر کے اس کے تحت صحابہ کے احوال درج کیے۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا جو سالہا سال کی محنت کے بعد تمام ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن حیدر آباد سے چھا پا گیا تھا۔ تاہم اس میں کثرت سے طباعت کی غلطیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو عرب علما ، شیخ نائف العباس اور شیخ محمدعلی دولہ کو یہ توفیق دی کہ وہ پوری کتاب کو دوبارہ تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کریں۔ وہ دیبا چہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے جگہ جگہ جزئی اضافے بھی کیے ہیں (وَنُضِيفُ الْكَلَامَ الَّذِي نَسِيَهُ الْمُؤَلِّفُ أَثْنَاءَ النَّقْلِ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ریاض میں ڈاکٹر عبد الرشید صاحب سے ملاقات بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ وہ قرآن کے مطالعہ کا بے حد ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ اور بندہ کے درمیان مقام اتصال (point of contact) ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر جب میں انسان کے جسم کو دیکھتا ہوں تو میں خدا کے کمالات میں ڈوب جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ گویا ایک ریموٹ کنٹرول کا نظام ہے۔ خدا اگر ریموٹ کنٹرول سے ہارٹ بیٹنگ کو روک دے تو ایک لمحہ میں ہمارا وجود ختم ہو جائے— جدید دریافتوں نے اسلامی حقیقتوں کی تفہیم کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روز نامہ المدینہ (7 جمادی الثانی 1404ھ ) میں دکتور عبداللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا۔ موصوف اس سے پہلے جامعہ الملک عبد العزیز (جدہ) میں مدیر تھے۔ اب وہ رابطہ عالم اسلامی کے امین عام ہیں۔ انٹرویور نے ان سے جو سوالات کیے ان میں سے ایک سوال دنیا کے مسلمانوں کے بارے میں تھا۔ دکتور عبداللہ نصیف نے غم ناک انداز میں کہا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

نَحْنُ نَرَى حَالَ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَوَضْعَهُمُ السَّيِّئَ — إِمْكَانِيَّاتُهُمُ الضَّعِيفَةُ، فَقْرُهُمْ، جَهْلُهُمْ، وَانْتِشَارُ الْأَمْرَاضِ بَيْنَهُمْ۔ یعنی، ہم ہر مقام کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا حال برا ہے۔ ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ ان میں غریبی اور جہالت ہے۔ ان کے درمیان بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔

19 مارچ کی شام کو ہم ریاض سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے۔ 20 مارچ کی صبح کو ہم جدہ میں تھے۔ دکتور عبد اللہ عمر نصیف سے ملاقات کا وقت طے تھا، لیکن ہم لوگ جدہ میں دیر سے پہنچے اور بظا ہر ممکن معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ ان سے مل سکیں گے۔ میں نے جناب حامد الدین صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ابھی ان سے ٹیلی فون کر کے دوسرا وقت مقرر کر لیا جائے۔ حامد الدین صاحب نے ٹیلی فون ملا یا توالسلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہا

I hope I did not disturb you.

میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ انداز خطاب تعلیم سے آتا ہے۔ اگرقوم کوتعلیم یافتہ بنا دیا جائے توقوم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ کیوں کہ تعلیم قوم کے افراد کو مہذب بھی بناتی ہے اور باشعور بھی۔ اس کے مطابق شام کو نماز عصر کے بعد دکتور عبداللہ نصیف سے ان کی قیام گاہ (جدہ) پر ملاقات ہوئی۔ جدہ میں ہم نے سرکاری مہمان بننے کے بجائے جناب محمدرفیق قریشی کی میز بانی کوپسند کیا۔ اس کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔

دکتور احمد محمد علی سے ملاقات ہوئی جو اسلامک ڈولپمنٹ بنک کے صدر ہیں۔ مختلف ملاقاتوں کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ راقم الحروف نے جو آواز بیس سال پہلے بلند کرنا شروع کیاتھا اس کی اہمیت اب عام طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔ اب سوچنے سمجھنے والا طبقہ عام طور سے تسلیم کرتا ہے کہ دعوت اسلامی کا کام قومی اور سیاسی جھگڑوں سے الگ ہوکر کرنا چاہیے ۔ مجھے یقین ہے کہ جو بات پچھلے برسوں میں اجنبی بنی ہوئی تھی، بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب کہ وہی تمام لوگوں کی بات ہوگی۔21 مارچ کی شام کو ہم جدہ سے دوبئی کے لیے روانہ ہوئے۔ جہاز میں مجھے سردی کا احساس ہوا تو اوپر کا خانہ کھولا کہ اس میں سے کمبل نکال کر پیروں پر ڈال لوں۔ مگر وہاں صرف تکیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھ کو ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر جہاز کا ایک کارکن قریب آیا اور بولا

Can I help you

(کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں)۔ اردو میں اسی بات کو کہنا ہو تو آدمی کہے گا ’’آپ کو کیا چیز چاہیے‘‘۔ زبان کا یہ اسلوب دونوں زبان کے بولنے والوں کے مزاج میں بھی منتقل ہوا ہے جس کا مظاہرہ مختلف عملی پہلوؤں سے ہوتا رہتا ہے۔

20 مارچ کی شام کو ہمارا جہاز دوبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ وہاں چند روز گزارنے کے بعد26مارچ 1984 کی صبح کو ہم برٹش ایرویز (147) کے ذریعہ دہلی واپس پہنچے۔ (الرسالہ، مئی 1984)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content