ہمارے مدرسوں میں جب استاد کو ئی مضمون پڑھائے گا تو اپنی بات کہنے کے بعد وہ طلبہ سے کہے گا— کیا میری بات سمجھ میں آئی۔ کیا میری بات سمجھ گئے تم لوگ۔ لیکن ،مغربی یونیورسٹیوں میں جب ایک پروفیسر لیکچر دیتا ہے تو اپنی بات کہنے کے بعد وہ طلبہ سے اس طرح نہیں پوچھتا۔ بلکہ خوداپنے اوپر لیتے ہو ئے کہتا ہے کہ کیا میں اپنی بات واضح کر سکا
Am I clear?
یہ دو الگ الگ کلچر ہیں اور دونوں سے الگ الگ مزاج بنتا ہے۔ اوّل الذکر سے ذاتی برتری کا مزاج بنتا ہے اور ثانی الذکر سے تواضع اور ماڈسٹی کا مزاج۔ (ڈائری،26 فروری 1996)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.