Maulana Wahiduddin Khan
48 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

مدرسہ قادریہ کاسفر

Urdu · 48 min read

مفتی عبدالعزیز صاحب رائے پوری نے ستمبر 1979 میں مسروالا ( ہماچل پر دیش) میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنے شیخ مولانا عبدالقادر رائپوری کے نام پر اس کانام مدرسہ قادریہ رکھا۔ اس کے بعد جلد ہی اپنے شاگرد مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کو بلا کر اس کا انتظام ان کے حوالے کر دیا۔ 1980 سے مولانا کبیر الدین صاحب اس کے نا ظم ہیں۔

پچھلے دس سال سے وہ برابر مجھ کو اپنے مدرسہ میں آنے کی دعوت دے رہے تھے، کبھی براہ راست اور کبھی ٹیلی فون پر۔ مگر کسی نہ کسی سبب سے وہاں کا سفر نہ ہو سکا۔ 17 نومبر 1995 کی صبح کو وہ دہلی آئے اور کچھ اس انداز سے اصرار کیا کہ میرے لیے انکار ناممکن ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ اپنے پھیلے ہوئے کاموں کو چھوڑ کر صبح 10 بجے ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

ہماری گاڑی چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچی جہاں ایک طرف تاریخی جامع مسجد ہے اور دوسری طرف لا ل قلعہ کی سرخ دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ کو دیکھ کر مجھے اردو شاعر کی طویل نظم کا ایک شعر یاد آیا

اے قلعہ سرخ اے اثر شاہجہانی برباد شدہ عظمت ِماضی کی نشانی

یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ماضی کی گزری ہوئی عظمتوں میں اتنا گم ہوئے کہ وہ حال کی حقیقتوں کاصحیح ادراک نہ کر سکے۔ پدرم سلطان بود کی نفسیات نے انہیں مثبت نقطۂ نظر سے محروم کر دیا۔ اس المناک صورت حال کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے رہنما بن کر اٹھے وہ زیادہ تر شاعر اور خطیب اور انشاء پر داز قسم کے لوگ تھے انہوں نے رجز خوانی کی، جب کہ اس وقت اصل ضرورت حقیقت بیانی کی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے اپنی غیر حقیقی باتوں سے پوری ملت کے مزاج کو بگاڑ دیا۔ موجودہ زمانہ میں شاید کوئی بھی ایسا رہنما نہیں جس نے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا ہو اور پھر حقیقت پسندانہ انداز میں مسلمانوں کو درست رہنمائی دی ہو۔

لال قلعہ اور قطب مینار کی حیثیت آج صرف آثار قدیمہ کی ہے۔ جو گروہ لال قلعہ اور قطب مینا رکی فضاؤں میں جیتا ہو وہ خود بھی آثار قدیمہ کی ایک مثال بن کر رہ جائے گا، وہ دور جدید میں باعزت مقام حاصل کر نے میں ناکام رہے گا۔

دہلی سے نکل کر آگے بڑھے تو سڑک کے دونوں طرف دور تک درخت اور سبزہ پھیلا ہواتھا۔ میں نے سوچا کہ ساری کائنات کے مقابلہ میں زمین اس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ مگر اب تک کی معلومات کے مطابق، زمین ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی اور سبزہ ہے۔ ساری وسیع کائنات میں کہیں بھی پانی اور سبزہ موجود نہیں۔

اسی پانی اور سبزہ نے زمین کو انسان جیسی زندہ مخلوق کی لیے قابل رہائش بنا دیا ہے۔ یہاں اس کے لیے نہ صرف رہائش کاسامان ہے بلکہ تمدنی ترقیوں کے لیے تمام ممکن اسباب بھی موجود ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس کاشکر صرف یہ ہے کہ آدمی دل سے اس عطیہ کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی تابعد اری میں دے دے۔

یہ سفر مدرسہ کی کار سے ہوا۔ راستہ میں میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کہ 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا اس کے بعد ہندستان میں کتنے ایسے مولوی تھے جن کے پاس کار اور ٹیلی فون تھے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے کہ شاید ایک بھی نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آج کیا حال ہے، انہوں نے کہا کہ آج تو ملک میں ہزاروں مولویوں کے پاس کار اور ٹیلی فون موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مولوی ہیں جن کو آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر کاراور ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے۔

پھر میں نے کہا کہ مگر کوئی بھی مولوی ایسا نہیں جو تحریر یا تقریر کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہو کہ مسلمان اس ملک میں ترقی کررہے ہیں، نہ اکا بر میں اور نہ غیر اکا بر میں ، بلکہ یہی لوگ ہیں جواپنی تقریروں اور تحریروں میں روزانہ ہندستانی مسلمانوں کی بربادی کا چرچا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ باہر کے ملکوں میں بھی جاکروہ اسی قسم کی خبریں لوگوں کو سناتے ہیں۔ مثلاً مکہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کے تازہ شمارہ 12 نومبر1995 میں ایک معروف ندوی عالم کاانٹرویو چھپا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کے مسلمان مخالفانہ موامرات (conspires)کا اور ہندوؤں کی عداوت کا شکار ہور ہے ہیں۔ اس کاعنوان ہے انڈیا کے مسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان ( مُسْلِمُوْالْهِنْدِ بَيْنَ فَكَّيِ الرَّحَىٰ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انٹرویو لینے والا اگر سمجھدار ہو تا تو وہ ان سے پوچھتا کہ جب تمام ہندستانی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں تو تم کس طرح اتنے شاندار طور پر اس سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم کو تو تم وہی تدبیر بتاؤ تاکہ ہم بَشَّرُوا ‌وَلَا ‌تُنَفَّرُوا (بشارت دو، نفرت نہ پھیلاؤ)کے اسلامی اصول پر ہندستان کے مسلمانوں کو اس کی خوشخبری دے سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اپنے ملک کے پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماضی کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ 1947 سے پہلے مسلمانوں کے لیڈروں نے سمجھا یا کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کاکوئی مستقبل نہیں۔ اس لیے ہمیں علیحدہ ملک چاہیے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تمام دماغ آج تک ماضی کے اسی بے بنیاد پروپیگنڈے میں گم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مسلمان لیڈروں کی تقسیم کے مطابق ، ہم ’’ہندوانڈی‘‘ میں ہیں، اس لیے ہم ضرور تباہ حال ہوں گے۔ چنانچہ وہ ابھی تک وہی ماضی کی بولی بولے چلے جارہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آج ہندستان کے مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ خود لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں ایک ایک شخص اپنی 1947 کی حالت کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مگر تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قریبی واقعہ تک کاعلم نہیں۔

ماضی کے مسلم رہنماؤں کی سوچ قانون فطرت کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان مسلم رہنماؤں کی باتیں فضا میں گم ہوگئیں۔ اور فطرت کاقانون خود اپنی طاقت سے قائم ہو گیا۔ مگر موجودہ مسلمانوں کاحال یہ ہے کہ انہیں صرف اپنے اکابر کی باتوں کا علم ہے، انہیں خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری قانون کاکوئی علم نہیں۔

دہلی سے مسروالا کا فاصلہ ڈھائی سوکلو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ سڑک اچھی ہے۔ راستہ میں سونی پت، پانی پت، کرنال، جمنا نگر وغیرہ پڑتے ہیں۔ ہم لوگ ایک کے بعد ایک ان مقامات سے گزر تے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ ان جگہوں کے نام اسی طرح صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ لیکن ان کے قدیم باشندے آج پیدا ہوں تو ان جگہوں کی بدلی ہوئی صورت کی بنا پر شاید وہ انہیں پہچان نہ سکیں۔

ڈیڑھ بجے ہم لوگ کرنال پہونچے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد ہے جس کے اوپر ’’ مسجد صغرا‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ مسجد بظاہر قدیم تھی۔ مگر مزید تعمیر کرکے اس کو اندر سے نیا کر دیا گیا ہے۔ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے قرآن کی آیت یاد آئی کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو نماز کے لیے اکٹھا ہو جاؤ اور جب نماز ختم ہو تو خدا کی زمین میں منتشر ہوجاؤ (الجمعۃ، 62:9-10)۔ میں نے سوچا کہ مسجد منتشرین کامقام اجتماع ہے۔ اہل ایمان خدا کی زمین میں پھیلنے والے لوگ میں۔ وہ صرف وقتی طور پر مسجد میں ٹھہرتے ہیں تاکہ اس سے نئی توانائی لے کر دوبارہ آگے بڑھ سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کرنال میں ایک بہت بڑی مسجد ہے۔ اس کو اندر جا کر دیکھا۔ اس کے امام سید انور حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ امام صاحب نے چائے کے لیے اصرار کیا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے معذرت کرنی پڑی۔مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر لکھا ہے— تعمیر کردہ نواب عظمت علی خاں، رئیس اعظم کرنال۔ وہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کے چچا تھے۔ انہوں نے یہ مسجد 1925 میں بنوائی تھی۔1947 میں کرنال مکمل طور پر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ مسلمان آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرنال میں مسلمانوں کی تعدادا یک لاکھ سے زیادہ ہے۔

عصر کی نماز ہم نے جمنا نگر میں پڑھی۔ وہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ اس میں چار پانچ زیادہ عمر کے اور سیدھے سادے مسلمان نظرآئے۔ ان سے پوچھا کہ جمنا نگر میں کتنی مسجدیں ہیں، کسی نے کہا ایک۔ کسی نے کہا تین۔ غرض کافی پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہو اکہ وہاں پانچ مسجد یں ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے 1947 سے پہلے کے دور میں یہ شکایت کی تھی کہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بازار میں ہیں لاکھوں، مسجد میں فقط جمّن

آج اگر چہ کمیت کے اعتبار سے مسجد کے نمازیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر جہاں تک کیفیت کاتعلق ہے، اب بھی مسجد کی آبادی میں زیادہ تر ’’ جمن ‘‘ قسم کے لوگ ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کرنال کے ریستو ران سے کھانا کھا کر ہم لوگ نکلے تو مولانا کبیر الدین صاحب پاس کی ایک دکان پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے پان خرید اجس کی قیمت دور وپیہ تھی۔ پان والا ایک ہندو نوجوان تھا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا کہ سہارن پور۔ پھر پان والے نے کہا، کیا آپ کبھی سہارن پور گئے ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں، میں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد اس نے پان کی قیمت نہیں لی۔ اس نوجوان کا نام ارن تھا۔ وہ دکان سے آکر مجھ سے ملا۔

مذکورہ واقعہ احساس قربت کا کرشمہ تھا۔ سامنے کے آدمی کو اگر کسی طرح آپ قربت کا احساس دلا دیں، خواہ وہ قربت بالکل معمولی نوعیت کی کیوں نہ ہو تو فوراً وہ آپ کا گرویدہ ہوجائے گا۔ دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اجنبیت ہمیشہ نقصان کا باعث ہو تی ہے۔ اس کے برعکس، قرابت اپنے آپ سارے معاملات کو درست کر دیتی ہے۔

ہم لوگ صبح 10 بجے دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ شام کو عشاء کے قریب مِسروالا پہنچے، اس سفر میں ہم کبھی آبادی کے درمیان سے گزرے اور کبھی خالی سٹرک سے ، کبھی ہماراراستہ کھلے میدان سے طے ہوا اور کبھی ایسے راستہ سے جہاں دونوں طرف جنگل تھا۔کبھی ہماری گاڑی نشیب پر چلی اور کبھی اس کو اونچائی کے اوپر چڑھنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح پوری زندگی ایک سفر ہے جو آخرت پر جا کر ختم ہو تا ہے۔ دنیا میں آدمی مختلف احوال سے گزرتے ہوئے چلا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آتی ہے اور وہ آخری طور پر اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

نماز عشاء کے بعد مدرسہ کے دفتر میں اساتذہ اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر مختلف باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ کچھ لوگ آپ کے پیغام کے مخالف کیوں ہیں۔میں نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص میرے پیغام کامخالف نہیں۔ کیونکہ میراپیغام وہی ہے جو خود فطرت کاقانون ہے۔ اور فطرت کے قانون کو نظرانداز کر نا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھرمیں نے کہا کہ میری تحریریں 99 فیصد اسلام کے تعارف پر مبنی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص ان کامخالف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔اس میں میں نے صرف یہ کیا ہے کہ اسلام کی متفقہ تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا ہے،اس کا کوئی مخالف نہیں ہو سکتا۔

ایک فیصد وہ ہیں جن کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ برادران وطن کے ساتھ مل جل کر رہیں اور اگر کبھی کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تو اس سے اعراض کریں تاکہ پر امن فضا باقی رہے۔ اس پر بھی تمام کے تمام مسلمان عامل ہیں۔ آپ کسی بھی مسلمان کو لیجیے اور دیکھیے کہ اس کاذاتی معاملہ جن ہندوؤں سے ہے اس کے ساتھ وہ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔ آپ پائیں گے کہ یہ عین وہی ہے جس کی طرف الرسالہ میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ میں نے صرف یہ کیا ہے کہ میں لوگوں کے عمل کا اعلان کررہا ہوں۔

عشاء کی نماز مدرستہ قادریہ کی مسجد میں پڑھی۔ مسجد بالکل جدید طرز کی ہے اور ساد گی کے ساتھ خوبصورتی کاعمدہ نمونہ ہے۔ اس کی خصوصیات کی تصویر کشی لفظوں میں بیان کر نامشکل ہے۔ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتاہے۔

عشاء کی نماز کے بعد طلبہ نے مصافحہ کیا۔ اکثرایسے موقع پر لوگ بھیڑ کی صورت میں مصافحہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ طلبہ نے مسجد کی دیوار سے مل کر قطار بنالی اور ایک ایک طالب علم آگے بڑھ کر مصافحہ کرتا رہا۔ اس طرح تقریبا دوسو طلبہ نے مصافحہ کیا۔

مدرسہ کے قریب سے ایک اہم سڑک گزرتی ہے۔ مگر اس سڑک کو مدرسہ سے جوڑنے کے لیے درمیان میں پختہ راستہ نہیں تھا۔ 1984 میں مدرسہ میں ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا۔ منتظمین نے ریاستی حکومت کے نام ایک درخواست بھیجی کہ ہمارے یہاں ایک بڑا مذہبی جلسہ ہونے والا ہے۔لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔ مگر عام سڑک اور مدرسہ کے درمیان اچھا راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے مدرسہ تک ایک پختہ سڑک بنا دی گئی۔ میں نے چل کر دیکھا تو وہ 280 قدم لمبی تھی۔

مدرسہ کے مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا میں چائے پی رہا تھا۔ اتفاق سے میرا ہاتھ ہلا اور چائے میری چادر پر گر گئی۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے فوراً میری چادر لے کر ایک طالب علم کو دیا کہ اسے لے جا کر ابھی دھو دو۔ یہ رات کاوقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت تو چادر سوکھے گی نہیں۔ کل اس کو دھوپ میں ڈالنا ہو گا۔ پھر غالباً دوپہر تک وہ سوکھ کر مجھے ملے گی۔ میں اسی خیال میں تھا کہ 20 منٹ کے بعد طالب علم نے صاف چادر لا کر میرے پاس رکھ دی۔ اتنی دیر میں وہ دھوئی گئی ، سکھائی گئی اور پر یس کر کے تہہ کی گئی اور پھر میرے پاس واپس آگئی۔

اس کا راز یہ تھا کہ یہاں مدرسہ میں جدید طرز کی واشنگ مشین موجود ہے جو دھونے کے بعد فوراً سکھانے کا کام بھی کر دیتی ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے مدرسہ کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نصاب کے اعتبار سے یہ ایک ’’قدیم طرز‘‘ کا مدرسہ ہے۔ مگر نظام اور تعمیرات کے اعتبار سے وہ بالکل جدید اور اپٹوڈیٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنے مدرسہ کو ایک ماڈرن مدرسہ بنا دیا۔ اسی طرح مدرسہ میں آٹا پیسنے کی مشین ہے۔ مدرسہ کی ضرورت کا آٹا خود اپنی مشین میں پیسا جاتا ہے، وغیرہ۔

ایک بار ایک مسلمان تاجرمدرسہ قادریہ میں آئے۔ انہوں نے طلبہ کو دیکھ کر کہا آپ کے طلبہ کے کپڑے صاف نہیں ہیں۔ پھر یہی تبصرہ انہوں نے تمام مدارس کے بارے میں کیا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ آپ لوگ تنقید تو کررہے ہیں مگر آپ اس کاحل نہیں بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ حل کیا ہے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ حل بہت سادہ ہے۔ آپ پیسہ دیجیے ہم واشنگ مشین منگاتے ہیں۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمارے مدرسہ کے بچے کتنے صاف ستھرے ہیں۔

مذکورہ تاجر کو یہ بات اثر کر گئی۔ وہ فوراً اس پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ دہلی جا کر انہوں نے مدرسہ کے لیے گودریج کی واشنگ مشین بھجوادی جو اس وقت سب سے اچھی سمجھی جاتی تھی۔یہ ایک صحت مند مثال ہے۔ مدرسہ والے باعزت انداز میں تعاون مانگیں اور اصحاب خیر بھی باعزت انداز میں اپنا مالی تعاون دیں تو دینی اداروں کاکام نہایت حسن وخوبی کے ساتھ چلنے لگے گا۔

عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ کے دفتر میں نشست ہوئی۔ اساتذہ بھی آگئے۔ دیر تک ملی موضوعات پر گفتگو ہو تی رہی۔ میں نے مولانا کبیر الدین مظاہری سے کہا کہ آپ نے اپنے مدرسہ کو جدید انداز میں بنایا ہے۔ اب یہاں ایک اور روایت قائم کیجیے۔ میں نے کہا کہ باہر سے جب کوئی شخص کسی مدرسہ میں آتا ہے تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گفتگو یک طرفہ انداز میں ہوتی ہے۔ یعنی آنے والا بولتا ہے، اور مدرسہ کے لوگ صرف سامع بنے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبادلۂ خیال کے انداز میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ روایت پہلے سے قائم ہے۔ چنانچہ اسی انداز میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

مدرسہ کا دفتر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ بالکل جدید طرز کا ایک دفتر تھا۔ ایک خوبصورت میز کے گرد خوبصورت کر سیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز پر کیلکو لیٹر، ٹیلی فون، اور دوسری جدید نوعیت کی دفتری چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ مولانا کبیر الدین مظاہری برابر ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے لوگوں کو میری آمد کی اطلاع دیتے رہے اور پر وگرام مرتب کرتے رہے۔ کیونکہ میں اچانک یہاں آیا تھا، اور اب ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پر وگرام کو منظم کیاجا سکتا تھا۔

ہماچل پر دیش کاعلاقہ 1947 میں مکمل طور پر فرقہ پر ستی کی زد میں تھا جو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ مدرسہ قادریہ کے ساتھ بھی باربار یہاں اشتعال انگیزی اور فساد کے مسائل پیدا ہوئے۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب نے حکمت اور تحمل کے ذریعہ ہر موقع پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے چنگاری کو ہواد ینے کے بجائے اس کو پہلے مرحلہ ہی میں بجھا دیا۔

یہاں کی کئی چیزیں دوسرے مدارس کے لیے قابل تقلید ہیں۔ مثلاً یہاں کااصول ہے کہ دواستاد اگر آپس میں جھگڑیں تو دونوں ہی کو باعزت طور پر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں ایساہے کہ دواستادوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو تو وہ آپ ہی آپ اس کو ختم کرلیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نظامت تک پہنچا تو دونوں کو علیٰحدہ کر دیا جائیگا۔

طلبہ کویہ اجازت نہیں کہ وہ اساتذہ کی ذاتی خدمت کریں۔ مثلاً کوئی طالب علم کسی استاذ کا سراور پاؤں نہیں دبا سکتا اور نہ ہی سر میں تیل لگا سکتا ہے۔ اسی قاعدہ کو بر قرار رکھنے کے لیے یہاں جو ان العمر اساتذہ رکھے گئے ہیں کیو نکہ اس قسم کے رواج اکثرانہیں مدارس میں پائے جاتے ہیں جہاں بوڑھے اور زیادہ عمر کے اساتذہ ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ طلبہ کو یہ تاکیدی حکم ہے کہ وہ ہر گز اپنے استاد کی نافرمانی نہ کریں۔

18 نومبر کی صبح کو سواپا نچ بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ یہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر تھی۔ یہاں چاروں طرف فطرت کاماحول ہے۔ اس ماحول میں اذان کی دھیمی آواز بہت اثر انگیز تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے موذن نے فطرت کے دھیمے لہجہ میں ذکر خداوندی کانغمہ بکھیر دیا ہو۔

فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ الجمعۃ کی تلاوت کی۔ نماز کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھیے قرآن میں ہے کہ زمین وآسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں (62:1) مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ تسبیح سنائی نہیں دیتی۔ گو یافطرت کی زبان خاموشی کی زبان ہے۔ شور کی زبان فطرت کی زبان نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا کبیر الدین صاحب نے یہاں کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا ہے۔ اس کاعلاقہ پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنا اچھا مولانا ہے۔ وہ شور والا کام نہیں کرتا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دھر م کی سیو اکررہا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ آپ جو کررہے ہیں وہ عین اسلامی طریقہ ہے۔ مسجد وں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال تو مجھے ایک بدعت معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں فتنہ کے زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی اِرْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2357)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فجر کی نماز ختم ہوئی تو ایک بچہ نے کھڑے ہو کر مختلف اوقات کی دعائیں بلند آواز سے بتائیں۔ مثلا ًکھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں، سونے کے وقت یہ دعا پڑھیں ، وغیرہ۔

نماز کے بعد طالب علموں کے اٹھ کر جانے کاانداز بھی نہایت منظم تھا۔ طالب علم اچانک بھیڑ کی صورت میں نہیں اٹھے۔ میں نے دیکھا کہ لمبی صف کے دائیں طرف سے باری باری صرف ایک طالب علم اٹھتا اور خاموشی سے باہر چلا جاتا۔ اس طرح تمام طلبہ قطار بنا کر باہر نکلے۔ مسجد کے گیٹ کے باہر آتے ہی تمام طلبہ نے دوڑ لگانا شروع کی۔ دوڑایک استاد کی نگرانی میں ہوئی۔

میں نے سوچا کہ یہ منظر اگر ٹی وی پر دکھا دیا جائے تو لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔ کچھ غیر مسلم حضرات غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اور مدرسہ میں ہتھیار وں کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ انہیں برعکس طور پر نظرآئے گاکہ مسجد میں آداب حیات سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے۔یہاں ایک ایک طالب علم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ شہری تقاضوں کو نبھائے۔ وہ ڈسپلن والی زندگی گزار سکے۔ وہ یہاں تربیت پا کر ایک اچھا انسان بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نماز اوّل وقت میں ہوئی۔ چنانچہ مسجد کے باہر ابھی زیادہ اجالا نہیں ہو اتھا۔ اب پروگرام کے مطابق تمام طلبہ سڑک پر پہنچے اور کچھ دیر تک دوڑ لگاتے رہے۔ یہ یہاں کاروزانہ کا معمول ہے۔ واپس آکر تمام طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہوگئے۔

یہ مدرسہ 36 بیگہہ زمین میں واقع ہے۔ وسیع رقبہ میں ایک شاندار اسلامی دنیا ابھر رہی ہے۔ مگر ایک صاحب کے الفاظ میں ’’کبھی کوئی ہندونہیں بولا۔ کبھی کوئی ہندو ڈنڈالے کرنہیں آیا۔ اتنا بڑا کام نہایت پر سکون طور پر یہاں انجام پارہا ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ یہ سب حکمت کانتیجہ ہے جس کو آپ لوگوں نے خدا کے فضل سے اختیار کیاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک استاذ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیکولر لوگ سیاسی پلیٹ فارم پر آپس میں لڑتے ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ مگر علما کایہ حال ہے کہ دو عالم اگر ایک بار کسی بات پرلڑگئے تو دوبارہ وہ کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عالم سے میں نے یہ بات کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ سیکولرلوگ مکار ہو تے ہیں۔ اس لیے ایسا کرتے ہیں۔ مگر علما تو مخلص لوگ ہیں۔ جب میں اپنے کو حق پر سمجھوں تو میں کس طرح دوسرے سے مل سکتا ہوں۔

other sourceWords of another person or source

استاذ نے کہا کہ آپ کا یہ جواب درست نہیں۔ اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو مسلمانوں کے درمیان تین دن سے زیادہ ترک کلام اور ترک تعلق شریعت میں جائز نہیں لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ ‌فَوْقَ ‌ثَلَاثٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6237)۔ اس کا مذکورہ عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اپنے مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ اسلام کے اصولوں کاحوالہ دے رہے تھے، مگر خودا پنے اوپر اسلام کے اصول کو منطبق کرنے پر وہ راضی نہ ہوئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مدرسہ سے ملحق ایک زمین تھی۔ اس پر عملا ًمدرسہ کاقبضہ تھا۔ تاہم کاغذی اعتبار سے وہ کچھ ہندوؤں کی تھی۔ چونکہ نئے قانون کے مطابق قابض ہی مالک ہو تا ہے۔ اس لیے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ زمین اب ہم کونہیں ملے گی۔

ایک بار زمین کے مالکان یہاں آئے۔ انہوں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ یہ زمین جو آپ کے قبضہ میں ہے، اس کے اصل مالک ہم لوگ ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ اسلام میں قبضہ کوئی چیز نہیں۔ زمین کاجو مالک ہے وہی اس کامالک رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا کبیر الدین صاحب کی زبان سے یہ غیر متوقع بات سن کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو خریداری کاپہلا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ انہوں نے مارکٹ ریٹ سے بہت کم قیمت میں اس زمین کو مدرسہ کے لیے دینا منظور کرلیا۔ حالانکہ مولانا کبیرالدین صاحب نے ان سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بہت سے ہندی اخبار والے مدرسہ کو دیکھنے کے لیے آئے۔ انہوں نے اس کے بارے میں اچھی رپورٹیں شائع کیں۔ ایک ہندی اخبار نے لکھا کہ یہ ہماچل پردیش کاشانتی نکیتن ہے۔

چندی گڑھ کے ہندی روزنامہ دینک ٹریبون ( 13 اگست 1994) میں ایک رپورٹ مسلم مدارس کے بارے میں چھپی۔ اس کی سرخی تھی۔ ’’ بھارت کے مدرسوں میں ہورہی ہے کٹر پنتھی کی پڑھائی‘‘۔ اسی طرح پنجاب کیسر ی ( دسمبر 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی ’’ہماچل میں چلائے جارہے مدرسے شکچھا پرسار کے بجائے آتنک واد کاپر شکشن دے رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح انڈین اکسپریس کی چندی گڑھ اشاعت ( 22اگست 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ISI Bid to Recruit HP Youths Via Madrasa.

اس قسم کی خبروں کے ذریعہ علاقہ میں دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بڑھا۔ اس کا خاص نشانہ مسروالا کامدرسہ قادریہ تھا۔ مگر یہ پروپیگنڈہ زحمت میں رحمت ثابت ہوا۔ پریس اور انتظامیہ دونوں تحقیق کے لیے متحرک ہو گئے۔ ا ورآخری رپورٹ عین مدرسہ کے حق میں نکلی۔ اس سلسلہ میں بہت سی موافق باتیں پریس میں آئیں جن سے فضا مزید اضافہ کے ساتھ مدارس کے حق میں ہو گئی۔ مثلاً جن ستا ( 11 جون) میں رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان تھا بھائی چارہ کا پرتیک ہے مسر والا( کامدرسہ )۔ حتی کہ ہماچل کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کی تردید کی۔ دینک ٹریبیو ن ( 20 دسمبر) میں یہ رپورٹ اس سرخی کے ساتھ چھپی مدرسوں میں بھارت ورود ھی گتی ودھیاں نہیں۔

اخبار والوں کی کئی پارٹیاں مدرسہ قادریہ میں آئیں۔ اور ہر چیز کو دیکھنے کے بعد اپنے اخباروں میں یہ رپورٹ چھاپی کہ ہم نے خود جا کر تحقیق کی اور تمام مخالفانہ پر وپیگنڈوں کو غلط پایا۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ یہ آپ کے حق میں رفع ذکر کا معاملہ تھا۔ اور جب آدمی حق پر ہو تو ہر رفع ذکر عسر میں یسر کا سبب بن جاتا ہے۔

مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش ایک ایسے علاقہ میں واقع ہے جس کے اطراف میں غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے۔ مدرسہ والوں کے ان حضرات سے گہرے مراسم کی وجہ سے ان حضرات کی برابر یہاں آمد ورفت رہتی ہے، حتی کہ خوشی اور غمی میں بھی وہ مدرسہ والوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور اپنے نجی مسائل میں یہاں کے ذمہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ نیز یہاں آکر اسلام کی معلومات، اسلامی اخلاق اور مدرسہ کی حب الو طنی اور سیاست سے دوری اور علما کی سادگی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی ادارے ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ادارے امن ومحبت کا پیغام ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ غیر مسلم جن کو عام طور پر کٹر پنتھی کہا جاتا ہے وہ بھی یہاں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان آنے والوں میں عام سرکاری ملازم سے لے کر وزیر اعلیٰ ہماچل پر دیش جیسے افراد بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے طالبان میں سے بعض افراد نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ہماری تعلیم دیوبند کے مدرسہ میں ہوئی ہے۔ اس کو ہندستان کے کچھ ہندی اخباروں میں اس طرح چھاپا گیا کہ طالبان نے جنگ جوئی کا سبق دیوبند کے مدرسہ میں رہ کر حاصل کیا ہے۔ اس کو مزید عام کر کے ہندی پریس میں یہ کہا گیا کہ ہندستان کے اسلامی ادارے اُگر واداور علیٰحدگی پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مدرسوں کا بھارتیہ کرن کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے ملک میں شانتی اور اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ بات بلا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان مدرسوں کا کوئی تعلق اگر واد یا علیٰحدگی پسندی سے نہیں۔ یہ مدرسے سادہ طور پر عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے دیوبندکے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے مگر یہ تعلیم سادہ طور پر دین کی تھی، نہ کہ جنگ جوئی کی۔

پنڈت جواہرلال نہرو اور دوسرے کئی نیشنل لیڈروں کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ ہندستان واپس آنے کے بعد وہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک ہو گئے۔ اب کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ان لیڈروں کو لندن کے اسکولوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی تعلیم دی گئی تھی۔

1947 سے پہلے جو لوگ آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے اور ’’انگریزو بھارت چھوڑو‘‘ کانعرہ لگایاوہ تقریبا ًسب کے سب ہندستان کے ان انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے جو برٹش دور میں قائم کیے گئے۔ ان کی بابت لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ان انگریزی اسکولوں کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایسی نسل پیدا ہو جوپیدائش کے اعتبار سے ہندستانی ہو اور اپنی سوچ کے اعتبار سے انگریز۔ مگر انہیں انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر لوگ انگریز کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت انگریزی اسکولوں میں انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کی تعلیم دی جاتی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ افغانیوں کاہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے ہندستان کے دینی مدرسہ میں داخلہ لے کر یہاں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے وطن جا کر جب وہ وہاں کی عسکری تحریک میں شامل ہو گئے تو اس کاکوئی تعلق ہندستان کے دینی مدرسہ سے نہ تھا۔ جنگ جوئی کا سبق انہوں نے خود اپنے ملک سے لیا۔ اس کاکوئی تعلق ان کی بیرونی تعلیم سے نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے یہاں کے مدرسہ میں حیدرآباد کاایک طالب علم تھا۔ وہ جوڈو کراٹے سیکھے ہوئے تھا۔ مدرسہ کے قریب ایک نہر ہے۔ وہ اکثراسی نہر پر جا یا کر تا تھا۔ ایک روز وہاں ایک ہندو لڑکا تھا۔ وہ مذکورہ طالب علم کے پاس کھڑا ہو کر بار بار نہر میں کو دتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالب علم پر پانی کے چھینٹے آتے تھے۔ طالب علم نے منع کیا، وہ نہیں مانا تو طالب علم نے اس ہندو لڑ کے کو مار دیا۔ وہ روتا ہو اگھر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں آئی اور طالب علم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگی۔ طالب علم نے اس ہندو عورت پر جوڈو کراٹے کافن استعمال کیا۔

اس سے ہندو آبادی میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ وہ لوگ مدرسہ پر آئے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ یہ طالب علم کی غلطی ہے اور سب کے سامنے طالب علم سے معافی منگوائی۔ اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم ایسے سنگین معاملہ میں اتنی آسانی سے ہندوؤں کے ٹھنڈا پڑجانے کا ایک پس منظر بھی تھا۔ اس سے پہلے مدرسہ کے طلبہ نے ہندو آبادی پر اچھا اثرڈالا تھا۔ مدرسہ سے ملے ہوئے ان لوگوں کے کھیت ہیں۔ مگر طلبہ چونکہ مدرسہ کے تحت ڈسپلن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ہندوکسانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ایک بار گاؤں میں آگ لگ گئی تو تمام طلبہ دوڑ کر وہاں گئے اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آگ بجھائی۔ اس پیشگی اخلاقی اثر کی وجہ سے ہندوزیادہ مشتعل نہیں ہوئے۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ مدرسہ والے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس میں غلطی دونوں کی ہو گی۔

میں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ کو فساد تک پہنچنے سے جن چیز نے روکا وہ ’’جوڈو کراٹے‘‘ کا فن نہیں تھا۔ بلکہ اخلاق اور حسن کردار تھا۔ ایک استاد کے الفاظ میں ایسا اس لیے ہوا کہ’’ہم نے پہلے سے یہ ثابت کر رکھا تھا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا کبیر الدین صاحب اس علاقہ میں آئے تو پہلے وہ رائے پور میں مقیم ہوئے۔وہاں آرایس ایس کاایک آدمی تھا جس کانام سری نواس بنسل تھا۔ عام مسلمان اس سے نالاں تھے۔ مگر وہ مولانا کبیر الدین صاحب کامعتقد ہو گیا۔ حتیٰ کہ جب وہ مسر والا آگئے تو وہ ان سے ملنے کے لیے یہاں آنے لگا۔ وہ مولانا کے گھر کا کھانا نہیں کھا تا تھا بلکہ گاؤں میں جا کر کسی ہندو کے یہاں کھاتا۔ مگر مولانا کبیرالدین صاحب سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔

گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ سری نواس بنسل کے لیےمولانا کبیرالدین صاحب کی سادگی، اصول پسندی ، وقت کی پابندی اور کسی سے نفرت نہ کرنے کا مزاج باعث کشش ثابت ہوا۔

18نومبر کو ناشتہ کرتے ہوئے میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا’’کوئی ہندو اپنے بچہ کو مدرسہ میں داخل کرنا چاہے تو آپ داخل کریں گے‘‘۔ انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں۔ پھر بولے،مگر دار الاقامہ میں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کویہاں تنگی ہو گی۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر وہ تنگی کو برداشت کرے تو، انہوں نے کہا پھر تو کوئی ہرج نہیں۔ ہم اس کو دارالاقامہ میں بھی رکھ لیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عام طور پر مدارس کایہ مزاج نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسہ میں کوئی ہندو بچہ ہو گا تو وہ مدرسہ کے ماحول کو خراب کر ے گا۔ حالانکہ یہ بالکل بے بنیاد اندیشہ ہے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے ماحول میں ایک غیر مسلم بچہ ہو تو وہ خود متاثر ہوگا نہ یہ کہ وہ دوسروں کو متاثر کرڈالے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ 1947 سے پہلے کے دور میں اسی ملک میں مسلم مدارس میں ہندو بچے بھی پڑھتے تھے، اور اس کا نتیجہ اسلام کے لیے بہتر صورت میں نکلتا تھا۔

1992 کے آخر میں فرقہ پرست عناصر نے یہ اعلان کیا کہ 6 دسمبر 1992 کو وہ بڑی تعداد میں ایودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد کو توڑ کروہاں رام مندر بنائیں گے۔ اس کے بعد ملک میں جگہ جگہ تناؤ پیدا ہو گیا۔ اسی اثناء میں نومبر 1992 میں پونٹا صاحب (ہماچل پردیش) کے پاس ایک گاؤ ں میں ایک اشتعال انگیز واقعہ ہوا۔ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان کی زمین پر قبضہ کر کے رات کے وقت وہاں ایک مندر کی تعمیر شروع کردی۔

دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں، ابھی چھت نہیں بنی تھی کہ وہاں مسلمان آگئے اور فرقہ وارانہ نزاع کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس کیس بن کر معاملہ عدالت میں پہو نچا۔عدالت نے تحقیقات کے بعد تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا اور حکم دیا کہ اس کو توڑ کر اس کی سابقہ حالت بحال کردی جائے۔

اس کے بعد گاؤں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں پولیس افسر، مقامی ہندو، علاقہ کے ایم ایل اے فتح سنگھ (بی جے پی) وغیرہ شامل تھے۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری بھی اس میٹنگ میں علا قہ کے عالم کی حیثیت سے موجود تھے۔ لوگ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ کیوں کہ پولیس اگر مندر کو گرادے تب بھی اندیشہ تھا کہ نفرت اور کشیدگی بڑھے گی اور نئے مسائل کھڑے ہوجائیں گے جس کو روکنے کے لیے کوئی عدالت یاپولیس یہاں موجود نہ ہو گی۔

اس وقت مولانا کبیرالدین مظاہری نے جرأت مندانہ اخلاق کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک شبھ کام اشبھ انداز میں ہوا ہے۔ مگر اب چونکہ یہاں مندر کی ایک صورت کھڑی ہوگئی ہے تو لوگ اس کو مندر کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اگر اس کو توڑا جاتا ہے تو عوام میں یہ شور ہوگا کہ گاؤں کا ایک مندر توڑ دیا گیا۔ اس سے دونوں فرقوں میں نفرتیں پیدا ہو ں گی اور مسئلہ پھر بھی نئی صورت میں باقی رہے گا۔ اس لیے اب ایسا کیا جائے کہ ہندولوگ اپنا مندر تو وہیں پورا کرلیں۔ البتہ اس کے بجائے مالک زمین کو ایک اور جگہ اس کے معاوضہ میں دے دی جائے۔

اس پر سب لوگ متفق ہو گئے۔ مسلمان مالک کو دوسری زیادہ بہتر زمین اس کے معاوضہ میں دے دی گئی۔ مندروہیں قائم رہا۔ مگر اس فیصلہ کازبردست فائدہ یہ ہوا کہ مذکورہ ہندوؤں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اخلاقی برتری حاصل ہو گئی۔

میں اپنے سرپر سفید پگڑی باندھتا ہوں۔ اس کے اندر ٹوپی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ آپ کا عمامہ سنت کے مطابق نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس طرح عمامہ باندھتے تھے کہ اس کے اندر ٹوپی ہوتی تھی اور آپ کے عمامہ کے نیچے ٹوپی نہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سنت اجمالی مطلوب ہو تی ہے ،نہ کہ سنت کلی۔ اور یہ عین فطرت کاتقاضا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کامل پیروی کو ضروری قرار دیاجائے تو جو لوگ ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں ان کامعاملہ بھی مسنون عمامہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عمامہ کا کپڑا ہاتھ کابنا ہوا ہو تا تھا ، جب کہ آج کل کے لوگوں کی ٹوپی اور عمامہ دونوں مل کے کپڑے سے تیار کیے جاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مدرسہ کے ایک استاذ مولانا انصار الحق مظاہری نے بتایا کہ جب وہ چودہ سال کے طالب علم تھے، مدرسہ کی رسید لے کر وہ چندہ وصول کرنے گئے۔ ایک حکیم صاحب کے یہاں پہو نچے جو باقاعدہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے بہت سخت انداز ختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی مدرسہ والے کو چندہ نہیں دیتا۔ انصارالحق صاحب نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ نے تجربہ کیا ہے یاقیاسی طور پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے اقرار کیا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی ذاتی تجربہ نہیں کیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد انہوں نے اپنی الماری سے الجاحظ کی کتاب ’’الحیوان‘‘ نکالی۔ یہ غیر معرب تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو آپ نے دیکھا ہے۔ انصاری الحق صاحب جو اس وقت کم عمر تھے، انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیکھا ہے۔ آپ کو یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا اس کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اچھا بتائیے، کیا آپ نے اس کو پڑھا ہے۔ انصار الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اس کو پانچ بار پڑھا ہے۔ اور پھر اس غیر معرب نسخہ کو روانی کے ساتھ پڑھ کر سنا نے لگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کے کتنے ذہین نوجوان ہمارے مدارس سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ مگر دور جدید کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ سماج میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ یہ لوگ اگر دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ان کی صلاحیتیں قوم کے لیے کئی گنا زیادہ مفید بن جائیں گی۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں ایسے اہل علم ہوں جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ وہ الشاذ کالمعدوم (that which is rare is treated as non-existent)کے درجہ میں رکھے جانے کے قابل ہیں۔

میں نے مدرسہ قادریہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ اپنے موجودہ نصاب کو چلاتے ہوئے ایک نئے کلاس کااضافہ کریں۔ اس کو آپ لینگویج کلاس یا لینگویج کورس کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف فارغ التحصیل افراد کو لیا جائے۔ عربی مدارس کے فارغین کو انگریزی زبان پڑھائی جائے اور انگریزی ادارہ کے تعلیم یافتہ افراد کو عربی زبان سکھائی جائے۔ فی الحال اس کی تعداد صرف دس ہو۔ پانچ عربی داں اور پانچ انگریزی داں۔ ان کو پڑھانے کے لیے دو معلم مقرر کیے جائیں۔ ایک عربی معلم اور ایک انگریزی معلم۔ مدرسہ کے ذمہ داروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ مزید تعاون کے بغیر شاید مدرسہ اس کام کو بحسن وخوبی انجام نہ دے سکے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ غیر مسلموں میں آپ کی بہت پذیرائی ہورہی ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے جلسوں میں خطاب کرنے کے لیے آپ بار بار بلائے جاتے ہیں، دورجدید میں یہ پہلا واقعہ ہے جو کسی مسلمان عالم کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ آپ کے سواکسی اور عالم کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ یہ صرف اسلوب کے فرق کامعاملہ ہے، اصل یہ ہے کہ دوسرے عالم اور رہنما اسلام کو دفاعی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ جب کہ میں اسلام کو دعوتی اعتبار سے پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے دوسری قوموں کو اسلام کادشمن سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کی تقریروں میں مناظرانہ اور حریفانہ رنگ آگیا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں کسی کو بھی اسلام کادشمن نہیں سمجھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس بنا پر اسلام ہر انسان کااپنا مطلوب دین ہے۔

میری اس سوچ کی بنا پر میری تقریر میں مذمت کے بجائے محبت ہوتی ہے۔ اس میں اظہار فخر نہیں ہوتا۔ اس میں مناظر ہ بازی نہیں ہوتی۔ وہ فطرت کو جگا تی ہے اور ان کے سامنے خدا کے دین کا مثبت تعارف پیش کرتی ہے۔ میں ہندویاعیسائی کے مقابلہ میں مسلمان کاکیس پیش نہیں کرتا۔ بلکہ سب کو خدا کا بندہ مان کران کے سامنے خدا کی بات پیش کرتا ہوں۔ اسلوب کایہی فرق ہے جس نے ان کی نظر میں میری بات کو پسند یدہ بنا دیاہے۔

ہماچل پر دیش کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہوئے میں نے پایا کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ نفرت اور تعصب نہیں ہے جو دہلی اور یوپی کے لوگوں میں پایا جا تا ہے۔ دونوں خطوں میں اس اعتبار سے واضح فرق ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالباًیہ ہے کہ دہلی اور یوپی کاعلاقہ عرصہ دراز تک سیاسی لوگوں کامرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس طرح اس علاقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشید گی کاماحول قائم ہو گیا۔اس کے برعکس، ہماچل پر دیش کاعلاقہ کبھی بھی اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کامرکز نہیں رہا۔اس فرق نے دونوں خطوں کے درمیان فرق پیدا کردیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

انسانی سرگرمیوں کو اگر دوقسم میں بانٹا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی سرگرمیاں باہمی نفرت پیدا کرتی ہیں اور تعمیر ی سرگرمیاں باہمی محبت۔

مدرسہ میں ایک مسلمان بڑھئی کا کام کررہے تھے ان کانام محمد حنیف ہے۔ اس وقت یہاں مسجد میں ماربل لگانے کاکام بھی ہور ہا تھا۔ مذکورہ بڑھئی نے کئی روزماربل کے مستریوں کو دیکھا۔ انہیں ان کاکام اچھا نہیں لگا۔ اگر چہ خود انہوں نے کبھی ماربل کاکام نہیں کیا تھا۔ اور نہ اس کو کہیں سیکھا تھا۔ تاہم اپنے اندرونی جذبہ کے تحت انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ ماربل لگانے کاکام آپ مجھے دے دیں، میں اس کو کروں گا۔ چنانچہ یہ کام انہیں دے دیا گیا۔ اس کے بعدانہوں نے ماربل لگا نے کاکام شروع کیا اور مستریوں سے کہیں زیادہ اچھا لگایا۔ میں نے بعد میں چاروں طرف دیکھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کام کسی ماہر کا ریگر نے کیا ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ ایک نئے آدمی نے انجام دیا ہے۔

مسلمان آج کل ہر جگہ کاریگری کے کام میں آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ تعلیمی پسماندگی نے ان کے اندر نیا جوش پیدا کیا۔ وہ سرگرمی کے ساتھ کاریگری کے کام میں لگ گئے جس میں تعلیم کی ضرورت نہ تھی۔ یہ قدرت کانظام ہے۔ آدمی اگر ایک میدان میں ناکام رہے، تو وہ دوسرے میدان میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

18 نومبر کی سہ پہر کو مسروالا سے ناہن کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں مولانا کبیر الدین صاحب نے ایک بڑے کام کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ ’’ اگر ہمیں دین کاکام کرنا ہے تو ہم کو اسٹیج اور مظاہرہ کا طریقہ چھوڑنا ہوگا‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مغرب کی نماز ہم لوگوں نے ناہن میں پڑھی۔ یہاں چار مسجد یں ہیں۔ مسجد کچا تالاب بس اسٹینڈ کے بالکل قریب ہے اور کافی آباد ہے۔ اس مسجد میں نماز مغرب کے بعد جلسہ کاپروگرام رکھا گیا تھا۔

جلسہ سے پہلے کچھ دیر ہم لوگ امام صاحب قاری حسین احمد کے کمرہ میں بیٹھے۔ یہاں صدر انجمن جناب شیخ نثار احمد ایڈوکیٹ بھی آگئے۔ وہ میرے مضامین پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی وہی ہے جو آپ بتاتے ہیں۔ یعنی ٹکراؤ سے نہیں بلکہ پیار سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ علاقہ ریاست سرمور میں شامل تھا۔ 1947 میں یہاں کے راجہ راجندر پر کاش تھے۔ تمام مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ 1947 میں جب ہر طرف فساد پھیل گیا تو راجہ راجندر پر کاش نے مسلمانوں کی حفاظت کیےلیے اپنی فوج لگادی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک مسلمان بھی یہاں سے چھوڑ کر جائے۔

ڈاکٹر حشمت علی صاحب بھی کمرہ میں آگئے۔ وہ یہاں مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لیے کافی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ ناہن میں دینی کام سب کا سب مقامی چندہ سے ہوتا رہا ہے۔ یہاں کاآدمی کبھی بھی باہر چندہ مانگنے کے لیے نہیں گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا ’’ناہن کے مسلمانوں میں جو اجتماعیت ہے وہ بہت کم کسی شہر میں دکھائی دے گی‘‘۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

18 نومبر کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان تقریر کاپروگرام تھا۔ یہ پروگرام مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ لیکن شہر کے معروف ہندو بھی قابل لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ مہاراجہ سرمور کی بہو انجناسنگھ بھی شریک تھیں۔ مسٹر آرایس ورما (سپرنٹنڈنگ انجینئر) اور دوسرے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے آرٹیکل اخباروں میں پڑھتے تھے۔ اور ہم کو آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ناہن سے رات ہی کو ہم لوگ مسروالا کے مدرسہ میں واپس آگئے۔ یہ مدرسہ بستی سے کچھ باہر واقع ہے۔ 19 نومبر کو میں نے مدرسہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے فوراً بعد بستی کے ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بستی آکر یہاں کی مسجد میں فجر کی نمازپڑھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بستی میں لوگ منتظر ہیں کہ آپ وہاں چل کر انہیں کچھ دین کی باتیں بتائیں۔ فجر کی نماز مدرسہ میں اول وقت غلس (the dim light of early dawn) میں ہوتی ہے۔ اور بستی کی مسجد میں دیر کے بعد اسفار (صبح کا اجالا نمایاں ہونے کے بعد)میں۔ اس طرح ہم لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ مدرسہ میں نماز ادا کرنے کے بعد وقت پر بستی کی نماز میں پہنچ سکیں۔

نماز کے بعد مستری یوسف صاحب کے اصرار پر ان کے گھر پر صبح کی چائے پی گئی۔ یہاں بستی کے کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ ان سے مختصر گفتگو ہوئی۔ واپسی کے بعد صبح 9 بجے میری قیام گاہ پر مدرسہ کے اساتذہ اور کچھ دوسرے افراداکٹھا ہو ئے۔ ان کے سامنے علم دین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف علمی واقعات ماضی اور حال کے سنائے۔ جس میں ہر ایک کے لیے سبق تھا۔

مدرسہ قادریہ اور اطراف کی مسجد وں کی تعمیر میں خاص طور پر جناب حاجی موسیٰ بٹلہ صاحب اور جناب ایف ڈی ریاض الدین وغیرہ کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اس علاقہ کی مسجدیں اور مدرسے ایک زندہ علامت کے طور پر بتا رہے ہیں کہ اہل مال کھلے دل کے ساتھ اہل دین کا تعاون کررہے ہیں۔ اہل مال اور اہل دین کا یہ اشتراک بلا شبہ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے۔

مہمان خانہ کے جس کمرہ میں یہاں میں ٹھہراتھا، اس کے اندر ایک بڑی الماری تھی جس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہیں میں سے ایک کتاب مصنف ابن ابی شیبہ (م235ھ) کا مکمل سٹ تھا جو 1986 میں کراچی سے تصحیح کے بعد شائع کیا گیا ہے۔

اس کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اس میں زیادہ تر احکام ومسائل والی روایات ہیں۔ الجزء العاشر میں فضائل القرآن کے باب میں ایک روایت میں بتایا گیا تھا کہ صحابہ وتا بعین کے زمانہ میں یہ کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ (حدیث نمبر 30092) میں یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر کے ایک شاگرد، حیہ بن سلمہ سے کہا کہ میں نے پورے قرآن کو پڑھ لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے اس میں سے حاصل کیا (قَالَ رَجُلٌ لِحَيَّةَ بْنِ سَلَمَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ قَالَ ‌وَمَا ‌أَدْرَكْتَ ‌مِنْهُ؟)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دورِاول میں لوگوں کی توجہ اس پر ہوتی تھی کہ انہوں نے قرآن کے کسی حصہ کو پڑھا تو اس سے کیا حاصل کیا۔ اب ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتنی بار ختم کیا۔ پہلے قرآن کے معنوی پہلو پر زور دیا جاتا تھا، اب اس کے الفاظ ہی کوکافی سمجھ لیا گیا ہے۔ دورِ اول کے مقابلہ میں موجودہ دور میں جو فرق ہے وہ اصل میں یہی ہے۔

19 نومبر کو مسروالا سے سہارن پور کے لیے روانگی ہوئی۔ مولانا انصارالحق مظاہری یہاں کے ایک لائق استاذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے پہلے ہمارے اکا برنے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ہندستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہاں اسلامی شعائر کی بےحرمتی ہورہی ہے۔ مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ 1947 کے بعد جو دور آیا اس میں شعائر کی بے حرمتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور مذہبی آزادی میں پہلے سے زیادہ رخنے ڈالے جانے لگے۔ مگر اب ہمارے علما اس ملک کے دار لحرب ہونے کا فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ آخریہ تضادکیوں؟

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سوال قابل غور ہے۔ اگر 1947 سے پہلے کانپور کی مسجد کاصرف غسل خانہ توڑے جانے سے ہند وستان دارالحرب بن سکتا تھاتو آج وہ شدید ترمعنوں میں درالحرب قرار پائے گا۔کیوں کہ آج پوری مسجد توڑ کر اس کو مٹادیا گیا ہے۔

اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ 1947 سے پہلے ہندستان کو دارالحرب قرار دینے کاجو فتویٰ دیا گیاوہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سیاسی فتوی ٰتھا، نہ کہ کوئی دینی فتویٰ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ثنائیت(dichotomy) بجائے خود درست نہیں۔ اس فقہی تقسیم کے مطابق، جو ملک دارالاسلام نہ ہو وہ دارالحرب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ’’دار‘‘ کی اور بھی قسمیں ہو سکتی ہیں— دارالد عوۃ اور دار الامن، وغیرہ۔

میرے نزدیک ہندستان نہ 1947 سے پہلے دارالحرب تھا اور نہ وہ 1947 کے بعد دارالحرب ہے۔ اس قسم کی دو گونہ تقسیم قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ وہ عباسی دور کے بعض فقہاء نے زمانی حالات کی بنا ء پر بنائی تھی۔ اس تقسیم کو شریعت کی طرح ابدی قرار دینا ہر گز درست نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شام کو ہم لوگ رائے پور پہنچے۔ یہاں کچھ دیر مدرسہ فیض ہدایت رحیمی میں ٹھہرے۔ عصر کی نماز بھی اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں اساتذہ جمع ہو گئے۔ان کے سامنے بعض موضو عات پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مدارسکے لیے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مدارس خدا کے فضل سے بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملت کے خیمہ کے لیے کھونٹے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج کل مدارس کے خلاف جو بدگمانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو دور کرنے کا حل نہ احتجاج ہے اور نہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر مطالبات کامیمو رنڈم پیش کرنا۔ اس کاحل یہ ہے کہ ہم خود کوشش کر کے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس کا سب سے طاقتور ذریعہ یہ ہے کہ مدارس قرآن کی آیت وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ ‌فَيَمْكُثُ ‌فِي ‌الْأَرْضِ (13:17)کا مصداق بنیں، یعنی، جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو نفع بخش بنائیں اور اس طرح اپنے لیے ایک نئی زندگی کا استحقاق ثابت کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ظہر کی نماز کسی قدر تاخیر کے ساتھ بادشاہی باغ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ میں نے سوچا کہ سڑک کے کنارے مسجد وں کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہاں مسلمان وقفہ وقفہ سے کچھ وقت کے لیے ٹھہرتے ہیں۔ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ سفر کے دوران بار بار وہ ان مسجدوں میں لمحاتی قیام کرکے خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے سفر دنیا کو سفر آخرت کاایک حصہ بنالیتے ہیں۔

اس کے بعد ہماری گاڑی ایک مقام پر مڑی۔ اب وہ رائے پور جارہی تھی۔ پانچ کلو میٹر کا یہ راستہ اس طرح طے ہوا کہ سڑک کے کنارے بہتی ہوئی نہر، اور پھر دونوں طرف دور تک سرسبز مناظر۔ اس کو دیکھ کر میرے سینہ میں شکر کا بے پناہ جذبہ ابھر آیا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں مومن کی سب سے بڑی کمائی یہ ہے کہ وہ شکر خداوندی کا رزق پا سکے۔ دنیا کے کسی خطہ ارض میں جب تک مومن کو شکر الٰہی کارزق مل رہا ہے وہ محروم نہیں ہے۔ وہ عظیم سرمایہ کامالک ہے۔ اس نعمت کے ملتے ہوئے دوسری چیزوں سے محرومی پر واویلا کرنا۔ ایک قسم کی ناشکری ہے جو مومن کے لیے جائز نہیں۔

سہارن پور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد ہے۔ یہاں مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو میرے ساتھی مسجد میں نظرنہیں آئے۔ میں حیران تھا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد ایک ساتھی آئے۔ ان سے اصل بات معلوم ہوئی۔

سہارن پور سے مجھے شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لیے روانہ ہونا تھا۔ سفر سے واپسی کے بعد نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز کے لیے گیاتو یہاں ایک پوری تاریخ یاد آگئی۔ یہ مسجد جس کوکالی مسجد یا کلاں مسجد کہا جاتا ہے، آج ایک وسیع اور شاندار مسجد دکھائی دیتی ہے۔ مگر 1947 میں یہ ایک کھنڈر کی صورت میں تھی جس پر کچھ لوگوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ میوات کے حافظ عبدالغفور صاحب نے اس کو دوبارہ آباد کرنے کی خاموش کو شش شروع کر دی۔ لمبی جدوجہد کے بعد یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کومل گئی۔ اس کے بعد حافظ عبدالغفور صاحب کے بھانجے مولانا محمد ہارون صاحب کی مسلسل کوشش کامزید نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ مسجد اس علاقہ کی سب سے زیادہ شاندار مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حافظ عبدالغفور صاحب 72 سال کی عمر میں دسمبر 1992 میں وفات پاگئے۔

حافظ عبدالغفور صاحب بظاہر ایک غیر معروف شخص تھے مگر انہوں نے معروف شخصیتوں سے زیادہ بڑا کام کیا۔ ان کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ غیر آبادمسجد یں آباد ہوں اور مدارس کاقیام زیادہ سے زیادہ عمل میں آئے۔ انہوں نے اپنی لگن اور جدوجہد سے 22 غیر آباد مسجد یں آباد کرائیں، اور 15 مدرسے قائم کیے۔ دہلی میں جو مسجد یں انہوں نے آباد کرائیں ان میں سے چند یہ ہیں فیروز شاہی جامع مسجد، بستی نظام الدین۔ جامع مسجد ڈیفنس کالونی، جامع مسجد خیر المنازل بالمقابل چڑیا گھر، مسجد پنج پیراں وغیرہ۔ اسی طرح مدرسہ زینت القرآن حوض رانی، مدرسہ اشاعت الاسلام (واقع فیروز شاہی جامع مسجد )، مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد ڈیفنس کالونی، وغیرہ۔

حافظ صاحب نے جب بھی کوئی مسجد آباد کی یا کوئی مدرسہ قائم کیا تو ان مقامات پر اپنا قبضہ جمانے کے بجائے لائق شخصیات کو وہاں متعین کرکے ان کو ان کے حوالے کر دیا، مثلاً خیر المنازل میں مولانا الیاس امینی کو امام متعین کیا۔ اسی طرح ڈیفنس کالونی کی جامع مسجد میں مولانا محمد عیسیٰ کو امام مقرر کیا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم اور ناظم بھی ہیں۔ مولانا عیسیٰ نے اپنی محنت سے اس مسجد اور مدرسہ کوکافی وسیع کرلیا ہے۔ وہاں آج ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ وعیدین ادا کرتے ہیں۔ کلاں مسجد بستی نظام الدین میں اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو مقرر کیا۔ حافظ عبدالغفور صاحب اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے رہتے۔ ابتداء سے ہی کلاں مسجد بستی نظام الدین کانظم وضبط مولانا ہارون کے ذمہ رکھا۔ مولانا ہارون صاحب کاکام گو یا کہ حافظ صاحب کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ مولانا ہارون آج بھی کلاں مسجد کی تعمیر وتوسیع کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد کے اندر حافظ صاحب کاقائم کیا ہوا مدرسہ اشاعت الا سلام بھی ترقی کررہا ہے۔ اس میں بیرونی طلبہ کے قیام وطعام کامعقول انتظام ہے۔ دوسری جگہوں کی نگرانی بھی حافظ صاحب نے انہیں کے سپرد کی۔ تمام مقدمات کی پیروی بھی مولانا ہارون صاحب ہی کرتے رہے۔ مولانا ہارون صاحب کو آخر وقت تک حافظ صاحب کی یہی تاکید تھی کہ مسجد کو کبھی سیاسی اکھاڑہ نہ بننے دینا۔

حافظ صاحب کی عمر کا ایک طویل عرصہ آثار قدیمہ، ڈی ڈی اے، کارپوریشن، تیس ہزاری کورٹ، دہلی وقف بورڈ اور جمعیت علماء کے چکر کاٹنے میں گزرا۔ کیوں کہ انہوں نے پرامن اور قانونی ذرائع سے یہ کامیابی حاصل کی اور ایک تعمیری جدوجہد کی تاریخ چھوڑی۔

1947 کے بعد مسلمانوں میں بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر انہیں لوگوں نے کیے ہیں، جنہوں نے مسجد اور مدرسہ کو اپنے عمل کامیدان بنایا ور خاموش اور پرامن انداز کو اپنی جدوجہد کے لیے اختیار کیا۔ اس کے بر عکس، معاملہ ان لوگوں کاہے جنہوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کوعام طور پر سیاسی طریقہ کہا جاتا ہے، ایسے لوگوں نے ملت کو صرف نقصان پہنچایا، وہ ملت کو کوئی بھی مثبت تحفہ نہ دے سکے۔

حافظ عبدالغفور صاحب جیسے بہت سے خاموش دینی خادم ملک میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کی راہ سے کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی صرف شخصی لیڈری ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی ملی اور دینی کام۔

(الر سالہ مئی 1999)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it