میرٹھ میں ایک عربی مدرسہ امداد الاسلام کے نام سے ہے۔ اس کے شیخ الحدیث مولانا شکیل احمد قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنا قصہ بتایا جو جنوری1965میں پیش آیا۔ راشن کے دکاندار نے بتایا کہ آپ اپنےراشن کارڈ کو ویریفائی کرالیں۔ ورنہ آئندہ اس پر راشن نہیں ملے گا۔ انہوں نے اپنا راشن کارڈ دفتر میں داخل کردیا۔ انسپکٹر جانچ کے لیے مولانا کے گھر آیا تو اتفاق سے وہ موجود نہ تھے۔ چنانچہ ویریفیکیشن نہ ہوسکا۔ مولانا دوبارہ دفتر میں گئے۔ وہاں وہ ایک مسلمان انسپکٹر مسٹر خورشید احمد سے ملے۔ خورشید صاحب نے کہا کہ اب تو یہی کیا جاسکتا ہے کہ آپ دوبارہ درخواست دیدیں۔ انکوائری کے لیے تو آدمی جائے گا۔ ویریفیکیشن کے بغیر تو آپ کا کارڈ نہیں بن سکتا۔
مولانا واپس جارہے تھے کہ راستے میں محمد معراج صاحب مل گئے جن کی مسجد میں مولانا جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔ معراج صاحب نے کہا کہ اس طرح تو آپ کا کارڈ بننے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ وہ دوبارہ مولانا کو دفتر لے گئے، اور ہندوافسر (A.D.M.)سے کہا۔ ہندو افسر نے قصہ سننے کے بعد فوراً مذکورہ خورشید صاحب کو بلایا اور کہا کہ ان کا کارڈ ابھی بناکر دے دیجیے۔ کیو ں کہ یہ امام ہیں، اور امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ ان کے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ وہ باربار آئیں۔
مولانا شکیل صاحب کارڈ لے کر چلنے لگے تو مذکورہ ہندوافسر نے دوبارہ بلایا ۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو کتناتیل ملتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ لیٹر۔ اس نے کہا کہ نہیں، آپ اپنے دکاندار سے کہیے کہ وہ آپ کو دس لیٹر تیل دے۔ کیونکہ گیس والوں کے لیے 5لیٹر ہے اور بےگیس والوں کے لیے دس لیٹر۔ مولانا شکیل صاحب نے کہا کہ یہ قاعدہ مجھ کو معلوم نہیں تھا اوردکاندار ہم کو5لیٹر سے زیادہ نہیں دیتاتھا۔ ہندوافسر نے کہا کہ آپ کا دکاندار اگر دس لیٹر نہ دے تو دوبارہ میرے پاس آئیے۔ (ڈائری، 14مارچ1995)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔