Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

میں پڑھ کر پڑھاوں گا

Urdu · 2 min read

میں پڑھ کر پڑھاؤں گا

فادر ہنری ہراس (1889-1956) ایک اسپینی مسیحی تھے۔ وہ 34 سال کی عمرمیں 18 نومبر 1922 کو بمبئی کے ساحل پر اترے۔ ہندستان کی زمین نے ان کو متاثرکیا۔ ان کومحسوس ہوا کہ ان کے تبلیغی حوصلہ کے لیے اس ملک میں کام کا اچھا میدان ہے۔ انہوں نے طے کرلیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنا تبلیغی کام انجام دیں گے۔

other sourceWords of another person or source

مگر ہندستان ان کا وطن نہیں تھا۔ کام سے پہلے ضروری تھا کہ یہاں ان کے لیے قیام کی کوئی بنیاد ہو۔ یہاں اپنی جگہ بنا کرہی وہ یہاں کی آبادی میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ انہوں نے طے کیا کہ ہندستان میں بحیثیت معلم کے قیام کریں گے اور اس کے بعد کالج میں اور کالج کے باہر اپنے لیے کام کی تدبیر کریں گے۔ بمبئی کا ہراس انسٹیٹیوٹ (Heras Institute) انھیں کی یادگار ہے۔

فادر ہراس (Fr. Henry Heras) چند دن بعد سینٹ زیویرس کالج بمبئی کے پرنسپل سے ملے وہ ایک تاریخ دان تھے۔ انہوں نے اپنے ملک سے تاریخ میں ڈگری لی تھی۔ پرنسپل نے ان کے کاغذات دیکھ کر پوچھا ’’آپ یہاں کون سی تاریخ پڑھاناپسندکریں گے‘‘ فادر ہراس نے فوراً جواب دیا ’’ہندستانی تاریخ۔‘‘ پرنسپل کااگلا سوال تھا ہندستانی تاریخ میں آپ کا مطالعہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’کچھ نہیں ‘‘۔ پھر آپ کیسے ہندستانی تاریخ پڑھائیں گے‘‘ پرنسپل نے پوچھا۔ فادر ہراس کا جواب تھا

other sourceWords of another person or source

I shall study it.

میں ہندستانی تاریخ کا مطالعہ کرکے اپنے آپ کو تیار کروں گا۔ پھر اس کو پڑھاؤں گا۔

فادرہراس جانتے تھے کہ معلمی کا کام وہ بطور پیشہ نہیں اختیار کررہے ہیں کہ یورپ کی تاریخ یا جو مضمون بھی وہ چاہیں پڑھائیں اور مہینہ کے آخر میں تنخواہ لے کر وہ مطمئن ہوجائیں ۔ ان کے لیے معلمی کا کام ایک خاص مقصد کی خاطر تھا۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے تبلیغی کام کے لیے مناسب بنیاد فراہم کریں اوراس مقصد کے اعتبار سے ان کے لیے ’’ہندستانی‘‘ تاریخ سب سے زیادہ موزوں مضمون تھا۔ وہ ہندستان میں تھے اس لیے ہندستانی تاریخ کے معلم بن کر وہ زیادہ بہتر طور پر یہاں کے نوجوانوں میں اپنے دین کی تبلیغ کرسکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندستان کی تاریخ سے ناآشنا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مضمون کے لیے ہندستانی تاریخ کو پسند کیا۔

انہوں نے ہندستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ نہ صرف اس مضمون کے اچھے معلم بن گئے بلکہ ہندستانی تاریخ میں سرجادو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سریندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ کی حیثیت حاصل کرلی۔ (الرسالہ، مارچ1984)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content