Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

شکر کا موقع

Urdu · 2 min read

ایک مسلمان عالم ہیں ۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آکر اپنی رقم لے گئے۔

میں نے ان سے کہاکہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں ۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے مواقع پا رہے ہیں ۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے۔ شکر، دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے۔

اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں۔ مسجد اور مدرسہ چلانا ، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا، اسلامی علوم کی خدمت کرنا، وغیرہ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کرسکتا۔ اس بنا پر اﷲ تعالی نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ انتظام کر دیا کہ ہر دور میں اہل دین معاش سے فارغ ہو کر دین کی خدمت میں مشغول رہیں۔

اس اعتبار سے اسلام کی تاریخ کے تین دور ہیں ۔ سیاسی دور، زراعتی دور، صنعتی دور۔ قدیم دور سیاسی دور تھا۔ اس زمانہ میں اس قسم کے خادمان دین کے لیے اسلامی حکومت سے باقاعدہ وظیفے جاری کیے جاتے تھے۔ اس کے بعد ز میندار ، جاگیردار اور نواب پیدا ہوئے جو گویا زراعتی دور کے سرمایہ دار تھے۔ یہ لوگ مستقل طور پر دینی خادموں کا مالی تعاون کرتے رہے۔

جدید صنعتی دور میں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بالکل پسماندہ ہو چکے تھے۔ اللہ تعالی نے یہ کیاکہ عرب سرزمین کے نیچے تیل کا زبردست ذخیرہ پیدا کر دیا جو ان کے لیے صنعتی پس ماندگی کی تلافی بن گیا۔ یہی تیل کی دولت ہے جو دنیا بھر کے تمام دینی اداروں اور دینی شخصیتوں کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ لاکھوں لوگ اس سے غیر معمولی فائدے حاصل کر رہے ہیں ۔ مگر میرے علم کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے سینہ میں اس نعمت خداوندی کی بنا پرشکر کا سمندر موجزن ہو گیا ہو۔ (ڈائری، 24 دسمبر 1990)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.