Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

موجودہ دینی مدارس

Urdu · 2 min read

دینی مدارس، بلا شبہ موجودہ زمانہ میں اہم دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کے افادی پہلو پر اتنا زیادہ لکھا جا چکا ہے کہ میری طرف سے اس سلسلے میں صرف تصدیق کافی ہے۔ اس پر مزید اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم دینی مدارس کی بعض علامات مثلاً ان میں باہمی اختلاف بلکہ تصادم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں مسلّمہ خوبیوں کے باوجود ، کوئی کمی ہے۔ اگر کمی نہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ مدارس مسلمانوں کی باہمی جنگ کا میدان بن جائیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ سراسر حرام ہے ۔

میرے نزدیک وہ کمی یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے افراد کو صرف داخلی نشانہ دیتے ہیں، وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہیں دیتے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ داخلی نشانہ بالآخر باہمی ٹکراؤپیدا کرتا ہے۔ جب کہ خارجی نشانہ یہ کرتا ہے کہ قوتوں کو خارج کی طرف موڑ کر لوگوں کو آپس کے تصادم سے بچالیتا ہے۔ وہ قوتوں کو خارجی محاذ پر لگا دیتا ہے۔

موجودہ دینی مدارس کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ تحفظ کی نفسیات کے زیر اثر وجود میں آئے۔ چنانچہ ان کا سارا نظام اور نصاب تحفظ کے تحت بنا۔ بالفاظ دیگر ان مدارس نے اول روز سے مسلمانوں کو صرف داخلی نشانہ دیا۔ وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہ دے سکے۔ اور جس قوم کے افراد کے پاس صرف داخلی نشانہ ہو، وہ ایک حدپر پہنچ کر ہمیشہ آپس میں ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔

قرآن میں دینی تعلیم کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایسے افراد تیار ہوں، جو اقوامِ عالم پر انذار کا کام کریں (التوبۃ،9:122) ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی اداروں کا اہم ترین مقصد یہ ہےکہ وہ قوم کے افراد کو عمل کا خارجی نشانہ دے سکیں۔ تاہم خارجی نشانہ سے میری مراد پرامن خارجی نشانہ ہے، نہ کہ اس قسم کا جار حانہ خارجی نشانہ جس کو موجودہ زمانہ کے جھوٹے قائدین نے دریافت کیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خارجی نشانہ سے میری مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ یعنی پر امن انداز میں اسلام کے پیغام سے اہل عالم کو با خبر کرنا۔ موجودہ مدارس میں اگر تعلیم کے ساتھ اقوام عالم کے درمیان تعارفِ اسلام کے عمل کو بھی اس کی صحیح اورموثر صورت میں شامل کر دیا جائے تو مدارس زیادہ بامقصد بن جائیں اور زیادہ مفید بھی۔(الرسالہ، جنوري ،1985)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content