Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

علما کم ، خطبا زیادہ

Urdu · 2 min read

مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا إِنَّكُمْ ‌فِي ‌زَمَانٍ ‌كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ....وَسَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ (الادب المفرد للبخاری، اثر نمبر789)۔ یعنی، آج تم ایک ایسے زمانے میں ہو، جب کہ امت میں علما بہت ہیں اور خطبا کم ہیں۔ تمھارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ امت میں خطبا زیادہ ہوں گے اور علما کم ہوں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قول میں فقہا(اور بعض روایت کے مطابق علما) سے مر اد حقیقی اہلِ علم ہیں، اور خطبا سے مراد عوامی انداز میں بولنے والے مقررین ہیں۔ بعد کے زمانے سے مراد اسٹیج اور میڈیا کا زمانہ ہے۔

یہ بعد کا زمانہ آج پوری طرح ہمارے سامنے آچکا ہے۔ قدیم زمانے میں، جب کہ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا اور نہ جدید قسم کا اسٹیج بنا تھا، اُس وقت تقریر و خطابت میں کوئی کشش موجود نہ تھی۔ اُس وقت کے حالات میں لوگ زیادہ تر علمی مطالعہ اور علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اِس بنا پر قدیم زمانے میں یہ ممکن تھا کہ بڑے بڑے اہلِ علم پیدا ہوں۔

موجودہ زمانے میں، اسٹیج اور میڈیا کے ظہور نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی پُر جوش تقریریں کر کے اسٹیج پر نمایاں ہو۔ اخباروں میں اس کی تصویریں چھپیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں اس کا شان دار مظاہرہ ہو، وغیرہ۔

اِس طرح کی چیزوں نے آج کے ذہین لوگوں کو علم سے بے رغبت کردیا ہے۔ اسٹیج اور میڈیا میں نمایاں ہونا، اُن کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو صحابی رسول نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

علم والا آدمی سوچ کر بولتا ہے اور خطابت والا آدمی سوچے سمجھے بغیر اپنی تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اِس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ علم والا آدمی مُصلح کا درجہ پاتا ہے، اور خطابت والا آدمی مفسد کا درجہ۔ مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیشہ صاحب بصیرت اہلِ علم درکار ہوتے ہیں، نہ کہ اہلِ خطابت۔ (الرساله، فروري 2009)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content