← Ulama Aur Deeni MadarisUlama Aur Deeni Madaris
ابتدائیہ
Urdu · 9 min read
تمہید
پہلی بار جب میں ایک بڑے مدرسہ میں گیا تو اس کو دیکھ کر اچانک میری زبان سے نکلا مدينة العلم ( علم کا شہر ) ۔ ہر مدرسہ گویا علم کا ایک شہر ہے ،اس واحد فرق کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بڑا شہر ہے اور کوئی چھوٹا شہر ۔
دور اوّل میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے اس قسم کے علمی شہر قائم کیے۔ یہ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ تھا۔ قدیم زمانے میں عمارت کے نام سے یا تو بڑے بڑے عبادت خانے (temples) بنائے جاتے تھے یا محل اور قلعے اور مقبرے۔ جدید معنوں میں تعلیم گاہیں بنانے کا کوئی رواج ہی قدیم زمانے میں نہ تھا۔ ایک مغربی محقق نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صد فی صد تعلیم (hundred percent literacy) کا تصور پہلی بار مسلمانوں نے تاریخ میں پیدا کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کے اندر یہ علمی مزاج کہاں سے آیا۔ یہ براہ راست قرآن کا نتیجہ تھا۔ قرآن کو کھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ قرآن میں سب سے زیادہ زور علم اور تعلیم و تعلّم پر دیا گیا ہے ۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے علم کو محدود دائرہ سے نکالا اور تاریخ انسانی کو عمومی تعلیم (mass education) کے تصور سے آشنا کیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ570ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی 610ء میں اتری جب کہ آپ غار حرا میں تھے۔ وحی کا پہلا لفظ یہ تھا اقرأ( پڑھو)۔ روایات میں آتا ہے کہ خدا کے فرشتہ جبریل نے آپ کے پاس آکر کہا کہ اقرأ ( پڑھو ) آپ نے فرمایا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ( مجھے پڑھنا نہیں آتا)۔ جبریل نے دوبارہ کہا کہ اقرأ۔ آپ نے فرمایا کہ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ۔ جبریل نے تیسری بار کہا کہ اقرأ۔ اس کے بعد آپ نے سورۃ العلق کے وہ کلمات اپنی زبان سے دہرائےجو جبریل پہلی وحی کے طور پر آپ کے پاس لائے تھے( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ابتدائی وحی کے اس واقعے پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام ثابت شدہ طور پر ایک اُمّی تھے ۔ اس کے باوجود کیوں خد ا کا فرشتہ بار بار کہہ رہا ہے کہ اقرأ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پڑھنا نہیں آتا تب بھی پڑھو۔ لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو ۔ اس اعتبار سے اسلامی کلچر گویا اقرأکلچر کا دوسرا نام ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک انتہائی انقلابی تعلیم تھی جو پیغمبر اسلام ﷺ کو اور بالواسطہ طور پر آپ کے پیروؤں کو آغاز رسالت میں اللہ کی طرف سے ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم آپ کے پیروؤں کی سرگرمی کا ایک مستقل حصہ بن گیا۔ پڑھنے اور لکھنے کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ وقت آیا جب کہ مسلمان تمام قوموں کے معلم بن گئے ۔ اہل اسلام جب عرب سے نکلے اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے پڑھنے اور پڑھانے کو اپنا خصوصی مشن بنا لیا۔ یہ لہر مکہ سے اٹھی۔ پھر وہ مدینہ پہنچی۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچی۔اس کے بعد بغداد اور قاہر ہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد وہ قرطبہ اور غرناطہ میں داخل ہوئی۔ وہاں سے مزید پھیل کر وہ سارے عالم میں پہنچ گئی۔ اس زمانے میں مسلم دنیا کے تمام شہر تعلیم و تعلّم کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
اہل اسلام کے اس مزاج کا نتیجہ تھا کہ جب ان کے قافلے برصغیر ہند میں داخل ہوئے تو یہاں بھی انہوں نے کثرت سے شخصی اور اجتماعی طور پر مدرسے اور تعلیم گاہیں قائم کیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ برصغیر ہند میں علم کی عمومی اشاعت بھی پہلی بار مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اعتراف کیا ہے کہ عرب مسلمان انڈیا میں ایک شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔(ڈسکوری آف انڈیا، 1944، صفحہ 231)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انیسویں صدی عیسوی کے نصف اوّل میں جب بر صغیر ہند میں انگریزوں کا غلبہ بڑھا تو اس کے ساتھ مسلم تعلیم گاہوں کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف ابتدائی سیاسی مزاحمت زیادہ تر علمائے اسلام کی قیادت میں ہوئی تھی۔ اس سے انگریزوں نے یہ تصور قائم کیا کہ اسلامی مدرسے انگریز مخالف تحریک کے فکری مرکز ہیں۔ چنانچہ وہ مدارس کے دشمن ہو گئے۔ انہوں نے طرح طرح سے مدارس پر روک لگانے کی کوشش کی۔ مثلاً انہوں نے مدارس کی جاگیریں اور اوقاف ضبط کر کے ان کے ذرائع کو مسدود کر دیا۔ بہت سے علما کو گرفتار کر لیا، وغیرہ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں اس ملک کے مدارس بند ہو گئے۔
ہندستان میں انگریزوں کے سیاسی قبضے کے بعد ایک عرصہ تک مسلم رہنما یہ سوچتے رہے کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکالو۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں دوبارہ کسی دینی کام کے مواقع نکلیں گے۔ 1857 کا مسلح اقدام اسی طرز فکر کا نتیجہ تھا جو اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس تجربے کے بعد علما نے محسوس کیا کہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ عملی طور پر غیر مفید ہے۔ اب واحد قابل عمل صورت یہ ہے کہ جنگ اور ٹکراؤ کو چھوڑ کر پر امن عمل کے میدان میں کوئی تعمیری کام شروع کیا جائے ۔ اسلام کی روشنی میں انہیں نظر آیا کہ یہ کام صرف علم اور تعلیم کا کام ہے ۔ چنانچہ علما نے یہ فیصلہ کیا کہ انگریزوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر وہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ساری طاقت صرف کریں۔
اس نئے ذہن کے تحت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پورے بر صغیر ہند میں مدارس کی تحریک پھیل گئی۔ داخلی اور خارجی حالات اس کے موافق ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ تحریک مدارس بڑھتے بڑھتے اب تحر یک انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
میں اپنی ابتدائی عمر ہی سے علما اور تحریک مدارس سے بہت قریب رہا ہوں۔ میرے والد کا انتقال 1929 میں بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لیے میرے عم زاد بھائی مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم، اے ایل ایل بی ہی گویا میرے خاندانی سرپرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ علما کے بہت عقیدت مند تھے۔ انہوں نے مشہور عالم اور بزرگ مولانا حسین احمد مدنی کی تعریف میں ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک شعر یہ تھا
وارث انبیاء حسین احمد کہ بدیں مستشار موتمن است
تقسیم ہند سے پہلے کے دور میں دو قومی نظریے کا ہنگامہ اٹھا۔ مولاناحسین احمد مدنی نے اس کا جواب دیتے ہوئے 1937 میں کہا کہ ’’فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘‘۔ اس کے ردّ میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور فارسی قطعہ لکھا جس کا پہلا شعر یہ تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عجم ہنوز نه داند رموز دیں ورنہ زدیوبند حسین احمد این چه بوالعجبی است
اس وقت اقبال احمد سہیل ایڈوکیٹ نے فارسی نظم کی صورت میں اس کا مدلل جواب دیا جس کے دوشعر یہ ہیں
به دیو بند گرا، گر نجات می طلبی
که دیونفس سلح شور و دانش تو صبی است
بگیر راه حسین احمد از خدا خواهی
که وارث است نبی را وہم زآل نبی است
برادر بزرگ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم سے مجھے زندگی کی پہلی سوچ ملی۔ چنانچہ نوجوانی کی عمر ہی میں علما اور تحریک مدارس سے میرا رشتہ جڑ چکا تھا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔
مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔ میری تعلیم مدرسہ ہی میں ہوئی۔ مدارس سے وابستہ افراد سے مسلسل میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ میں باربار مدارس کے اجتماعات اور پروگراموں میں شریک ہوتا رہا ، وغیرہ ۔ اس موضوع پر میری متفرق تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔
وحید الدین خاں
مئی 2000
(دین و شریعت، صفحہ 74-77)
زیر نظر مجموعہ میں مولانا صاحب کے ان مضامین کو شامل کیا گیا ہے جن کو انھوں نے علما اور دینی مدارس کے حوالے سے ماہنامہ الرسالہ ، ڈائری اور سفر ناموں میں لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو دعوتی مقصد کے لیے قبول فرمائے ۔ ( ناشر )
علم اور علما
علم کی اہمیت
علم کی اہمیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ (سنن الدارمی، حدیث نمبر 366)۔ یعنی، جس شخص پر اِس حال میں موت آئے کہ وہ علم اِس لیے سیکھ رہا ہو تاکہ وہ اُس کے ذریعے اسلام کا احیا کرے، تو جنت میں اُس کے اور پیغمبروں کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا۔
hadithQuotes a hadith
اِس حدیث کا مطلب بوقتِ مرگ علم سیکھنا نہیں ہے، بلکہ تادمِ مرگ علم کی طلب میں مشغول رہنا ہے۔ علم کے معاملے میں اصل تفریق علم دین اور علم دنیا کی نہیں ، بلکہ یہ فرق نیت کے اعتبار سے ہے۔ دنیا کا علم بھی عین علمِ دین بن سکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص نے اگر دین کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہو، اُس نے پیغمبرانہ مشن کو اپنی زندگی کا نشانہ بنا رکھا ہو تو اس کا ہر علم پیغمبرانہ مشن کے لیے استعمال ہونے لگے گا۔ ہر علم اُس کے یقین میں اضافہ کرے گا اور ہر علم اس کے لیے اس کے مشن کی تقویت کا ذریعہ بن جائے گا۔
علم کی طلب کوئی وقتی چیز نہیں ۔ ایک سچا مومن اپنی پوری عمر کے لیے علم کا طالب بن جاتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح معنوں میں علم کا ذوق ہو تو وہ اپنے ہر تجربے میں علم کا رزق پاتا رہے گا۔ وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اس کا ذوق کتاب کے ہر مضمون کو اس کے لیے حصولِ علم کا ذریعہ بنا دے گا۔ وہ کسی سے گفتگو کرے گا تو وہ اپنے جذبۂ تعلُّم (spirit of learning) کی بنا پر اُس سے نئی نئی باتیں اخذ کرلے گا۔ وہ کسی چیز کا مشاہدہ کرے گا تو ہر مشاہدے میں وہ اپنے لیے عبرت کا سامان پالے گا، حتیٰ کہ اگر اس کے اندر علمی ذوق بھر پور طور پر زندہ ہو تو وہ اپنے مثبت ذہن کی بنا پر بے علموں سے بھی علم حاصل کرے گا اور بے ادبوں سے بھی وہ ادب کا کوئی پہلو سیکھ لے گا۔ حصولِ علم کے معاملے میں اصل اہمیت ذوق کی ہے، نہ کہ محض واقفیت کی۔ (الرسالہ، مارچ 2014)
unverifiedAttribution could not be verified automatically