Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

پرچہ آؤٹ

Urdu · 2 min

تزکیہ کے سچے طالب کے لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی طرف سے خواب دکھایا جاتا ہے۔ اس خواب میں اس کو واضح رہنمائی دی جاتی ہے کہ اس کو آگے مزید کیا کرنا چاہیے۔ اس طرح طالب کو یقین کے ساتھ اپنا چوائس لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ تزکیہ کے ایک طالب کے لیے اس طرح کا خواب آنا اسی طرح کی ایک خصوصی مہربانی ہے، جیسے کسی اسٹوڈنٹ کے لیے اس کے امتحان کا پرچہ پیشگی طور پر آؤٹ کر دیا جائے۔

جو شخص تزکیہ کا طالب ہو، اس کے سامنے کئی بار مختلف قسم کے سوالات آتے ہیں۔ اس کو دو میں سے ایک کا فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ طالب اگر اس طرح کے مواقع پر خدا سے دعا کرے تو عین ممکن ہے کہ خدا اس کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اس کو ایک ایسا خواب دکھا دے جس میں اس کے لیے رہنمائی موجود ہو، جو اس کو شبہ اور تردد سے نکال کر یقین کی طرف لے جانے والا ہو۔ اس قسم کا خواب بلاشبہ خدا کی ایک خصوصی رحمت ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص خواب دیکھنے کے باوجود اس سے رہنمائی حاصل نہ کرے تو اس کا معاملہ اس طالب علم جیسا ہو جائے گا جس کا پرچہ آؤٹ کر دیا جائے، اس کے باوجود وہ امتحان میں ناکام رہے۔ تزکیہ 50 فیصد بندے کا معاملہ ہے اور 50 فیصد خدا کا معاملہ۔ تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ مسلسل خدا سے دعا کرے۔ یہ دعا اس کے لیے خدا سے جوڑنے کا ذریعہ بنے گی۔

وہ اپنے معاملات میں خدا سے استخارہ کرے۔ استخارہ گویا کہ اپنے معاملات میں خدا کے ساتھ کونسلنگ کرنا ہے۔ اور خدا کے ساتھ کونسلنگ کرنے والا کبھی بے راہ نہیں ہوتا۔ خدا اگر اس کو اس کے معاملے میں کوئی خواب دکھا دے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کے پرچے کو اس کے لیے آؤٹ کر دیا ہے۔

اب اس کے لیے کوئی دوسرا چوائس باقی نہیں رہا ہے۔ جس شخص کو خدا اس حد تک رہنمائی دے دے اور پھر بھی وہ اس رہنمائی کو قبول نہ کرے تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا جرم ہوگا جو کسی بھی حال میں قابل معافی نہیں۔ خدا ایسے انسان سے کوئی عذر، یعنی ایکسکیوز، قبول نہیں کرے گا۔ وہ اس کو ہمیشہ کے لیے اپنی قربت سے محروم کر دے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.