Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

مثبت نفسیات کی اہمیت

Urdu · 3 min

4000 سال پہلے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا، اور خود شام واپس چلے گئے۔ بعد کو اسماعیل بڑے ہوئے تو انہوں نے قبیلے جرہم کی ایک خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ وہاں آئے، اس وقت ان کی ملاقات اسماعیل کی بیوی سے ہوئی۔ انہوں نے سخت حالات کی شکایت کی۔

حضرت ابراہیم ان سے یہ کہہ کر چلے گئے کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو ان کو میرا یہ پیغام دینا: "غَيِّرْ عَتَبَتَ بَابِكَ" یعنی اپنے گھر کی چوکھٹ کو بدل دو۔ اس کے بعد اسماعیل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا اور ایک دوسری خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ پھر وہاں آئے، دوسری خاتون سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کوئی شکایت نہیں کی، بلکہ حالات پر شکر کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ اسماعیل آئیں تو ان کو میرا یہ پیغام دے دینا: "ثَبِّتْ عَتَبَتَ بَابِكَ" یعنی اپنے گھر کی چوکھٹ کو باقی رکھو۔

صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء۔ حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو صحرا میں بسا دیا تھا، اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے سادہ ماحول میں ایک نئی نسل پیدا ہو جو توحید کے مشن کو لے کر اٹھے اور اس کو دنیا میں پھیلائے۔ حضرت ابراہیم کے مذکورہ واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ کام کے لیے جو افراد مطلوب ہیں، ان کے اندر سب سے زیادہ یہ صفت ہونا چاہیے کہ وہ مثبت نفسیات میں جینے والے ہوں۔ وہ شکایات کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کس بات کی ہے، وہ یہ کہ آدمی مکمل طور پر اپنے آپ کو بے شکایت بنا لے۔ شکایت کے اسباب ہوتے ہوئے وہ پوری طرح مثبت سوچ والا انسان بن جائے۔ منفی سوچ تزکیے کی قاتل ہے، جبکہ مثبت سوچ تزکیے کے لیے سب سے ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ منفی سوچ والا آدمی شیطان کا معمول یعنی سبجیکٹ بن جاتا ہے۔

اس کے برعکس مثبت سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت میں جینے لگتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تزکیے کا حصول فرشتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.