Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیے کا طریقہ

Urdu · 2 min

کچھ لوگوں نے تزکیے کے مختلف طریقے بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس جیل میں انہوں نے تزکیے کے طریقوں کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیے کے طریقوں کی کوئی فہرست نہیں۔ آپ خواہ کتنی ہی لمبی فہرست بنا لیں، مگر کوئی بھی فہرست تزکیے کے طریقوں کی جامع نہیں بن سکتی۔ کوئی بھی فہرست تزکیے کے طریقوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

طویل ترین فہرست کے بعد بھی کچھ ایسے اجزاء باقی رہیں گے جو تجربے کے بعد یہ ثابت کریں گے کہ یہ فہرست ایک ناقص فہرست تھی۔ اصل یہ ہے کہ تزکیے کا تعلق کسی فہرست سے نہیں ہے، بلکہ انسان کے اپنے ارادے سے ہے۔ اگر انسان فی الواقع تزکیے کے معاملے میں سنجیدہ ہو، اور وہ دیانت دارانہ طور پر اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو، تو وہ ضرور اپنا تزکیہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن اگر آدمی اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ نہ ہو، اور وہ اپنا تزکیہ کرنے کے لیے حریص نہ ہو، تو کوئی بھی تحریر یا تقریر اس کا تزکیہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔

انسان کی ایک انوکھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہ، یعنی جسٹیفیکیشن، تلاش کر لیتا ہے۔ وہ اپنی ہر غلطی کو درست ظاہر کرنے کے لیے خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی مصلح یا مربی اس کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔ تزکیے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنے بارے میں ایک باشعور فیصلہ کرے۔

اس کا یہ فیصلہ اتنا زیادہ محکم ہو کہ وہ ہر حال میں اس پر قائم رہے۔ اس معاملے میں کسی بھی عذر، یعنی ایکسکیوز، کو وہ اپنے لیے عذر نہ بنائے۔ تزکیے کے معاملے میں اصل چیز تزکیے کا ارادہ ہے۔ یہ ارادہ اتنا زیادہ قوی ہونا چاہیے کہ کوئی بھی چیز آدمی کو اس سے ہٹا نہ سکے۔

کوئی بھی اندیشہ اس کے ارادے کو کمزور نہ کر سکے۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے پر راضی نہ ہو۔ اس کا یہ قول ہو کہ مجھے لازمی طور پر اپنا تزکیہ کرنا ہے، خواہ مجھے اس کی کوئی بھی عملی یا نفسیاتی قیمت دینا پڑے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.