Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ اور دعا

Urdu · 3 min

دعا کیا ہے؟ دعا اس کیفیت کے لفظی اظہار کا نام ہے جو ایک طرف اپنی عبدیت اور دوسری طرف خدا کی ربوبیت کو دریافت کرنے کے بعد ایک انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مسنون دعاؤں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔

مسنون دعا، معروف معنوں میں، مسنون الفاظِ دعا کا نام نہیں۔ مسنون دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے اکتشافی دعا کا نام ہے۔ ایک ربانی دریافت جب الفاظ میں ڈھل جائے تو یہی وہ دعا ہے جس کو مسنون دعا یا اکتشافی دعا کہا جا سکتا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي فَلْيَظُنَّ بِي خَيْرَ مَا أَحَبَّ" ذخیرۃ الحفاظ لابن القیصرانی، جلد 5، صفحہ 2793۔

یعنی میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے بارے میں اچھا گمان کرے۔ یہ گمان کیا ہے؟ یہ دراصل خدا کی صفات میں سے کسی ایک صفت کو دریافت کرنے کا نام ہے، جو آدمی کو یہ موقع دے کہ وہ خدا کے بارے میں اچھا گمان کرے، وہ اس سے خیر طلب کرے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "وَأَتَىٰكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُهُ" سورہ نمبر 14، آیت 34۔

یہ آیت کسی بندے کو دعا کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتی ہے جس کے حوالے سے وہ خدا کی رحمت کو انووک کر سکے۔ وہ یہ کہے کہ خدایا، دنیا کی زندگی میں اپنی ضرورتوں سے واقف بھی نہ تھا کہ میں تجھ سے اس کا سوال کروں۔ تو نے میری فطرت کے تقاضوں کو سوال کا درجہ دے کر میری تمام دنیاوی ضرورتوں کا انتظام کر دیا۔ آخرت کے معاملے میں بار بار میں تجھ سے سوال کر رہا ہوں، اب تو میرے سوال کو لازم کا درجہ دے کر آخرت میں بھی مجھے میری تمام مطلوب چیزیں عطا کر دے۔

اس قسم کی ایک دعا ہمیشہ ایک نفسیاتی طوفان کے بعد کسی آدمی کی زبان سے نکلتی ہے۔ اسی نفسیاتی واقعے کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ اور دعا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں تزکیے کا واقعہ ہوگا، وہاں دعا بھی لازماً ظاہر ہوگی۔

اور جب دعا کا ظہور ہو تو وہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس سے پہلے آدمی کے اندر تزکیے کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ تزکیے کے بغیر دعا نہیں، اور دعا کے بغیر تزکیہ نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.