تزکیے کے لیے صحبت، یعنی companionship، ایک مددگار ذریعہ ہے۔ قدیم زمانے میں صحبت کا ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ہے براہِ راست ملاقات۔ موجودہ زمانہ مواصلات، یعنی communication، کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کوئی شخص دور رہتے ہوئے بھی اپنے مزکی یا مربی سے صحبت کا فائدہ حاصل کر سکے۔
اس ربط کا ذریعہ خط و کتابت، اور انٹرنیٹ، اور ٹیلی فون وغیرہ ہیں۔ اسی کا ایک ذریعہ ٹیلی کونسلنگ بھی ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں تزکیے کا طالب ہو تو یہ چیزیں اس کے لیے صحبت کا بدل بن جائیں گی۔ انہی جدید ذرائع میں سے ایک پرنٹنگ پریس ہے۔
پرنٹنگ پریس نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ ماہانہ یا غیر ماہانہ میگزین کے ذریعے مسلسل طور پر تزکیے کا مواد حاصل کیا جاتا رہے۔ موضوع سے متعلق مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔ اس طریقے کی اہمیت خود خران سے معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: "عَلَّمَ بِالْقَلَمِ" سورہ نمبر 96 آیت 4۔ یعنی قلم کے ذریعے لکھی ہوئی کتابوں سے دین کو اخذ کرنا۔
مطالعے کی اہمیت ایک پہلو سے صحبت سے بھی زیادہ ہے۔ صحبت میں آدمی کسی بات کو اپنے مرشد سے ایک بار سنتا ہے، لیکن کتاب کی صورت میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ بار بار اس کا مطالعہ کرے۔ وہ بار بار اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور و فکر کرے۔ وہ اس کو لے کر دوسروں سے اس پر مذاکرہ، یعنی exchange، کرے۔
ایک ایسا فائدہ ہے جو صرف کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ تزکیے کے لیے رابطہ انتہائی حد تک ضروری ہے۔ یعنی مرشد سے مسلسل طور پر استفادہ کرتے رہنا، اپنے مسائل مرشد کو بتا کر اس سے رہنمائی حاصل کرنا۔ یہ ربط براہِ راست صحبت کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور مواصلات کے ذریعے بھی۔
یہ ربط مسلسل طور پر مطلوب ہے، وقتی ربط سے تزکیے کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.