Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

حدیث تزکیہ کا ذریعہ

Urdu · 2 min

ایک عالم نے کہا ہے: «من كان في بيته مجموعة من الأحاديث فكأنما فيه نبي يتكلم». جس آدمی کے گھر میں حدیثِ رسول کا ایک مجموعہ ہو، گویا کہ اس کے گھر میں خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے۔ مذکورہ عالم نے جو بات کہی، وہ صرف کلامِ رسول کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ توسیعِ اعتبار سے وہ گویا صحبتِ رسول کے معنی میں بھی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں، وہ مجرد اقوال نہیں ہیں، بلکہ ہر قول کا ایک پس منظر یعنی بیک گراؤنڈ ہے۔ یعنی رسول اللہ کسی مقام پر تھے، وہاں ایک صورتحال پیدا ہوئی، اس صورتحال کے تقاضے کے طور پر آپ نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کلام کیا۔

اس طرح آپ کا ہر قول کسی نہ کسی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔ آپ کا ہر قول کسی نہ کسی صورتحال کو بتاتا ہے۔ اگر آدمی اپنے شعورِ حدیث کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ حدیث کے ساتھ اس کے بیک گراؤنڈ کو اپنے تصور میں لا سکے، تو یہ واقعہ اس کے لیے گویا صحبتِ رسول میں پہنچنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ وہ محسوس کرے گا کہ میں نہ صرف کلامِ رسول کو کتاب میں پڑھ رہا ہوں، بلکہ کلام کے بین السطور یعنی between the lines میں اس کے بیک گراؤنڈ کو بھی اپنے ذہن میں تازہ کر رہا ہوں۔

یہ احساس اگر آدمی کے اندر شدت کے ساتھ ابھر آئے، تو مطالعہ حدیث اس کے لیے صحبتِ رسول میں بیٹھنے کے مانند ہو جائے گا۔ اس طرح حدیث کے بارے میں اس کا تاثر ہزار گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حدیث کو پڑھنے والا صرف حدیث کو پڑھنے والا نہیں ہے، بلکہ وہ گویا صحابہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والا ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ ایک تخلیقی، کریئیٹو اسلوب ہے۔

اور تخلیقی اسلوب میں حدیثِ رسول کا مطالعہ بلاشبہ تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.