Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

113. Al-Falaq

Urdu · 4 min read

اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔

اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔

اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔

اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔

اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.