اللہ کی وہ مدد جس کا نام فتح ہے، وہ ہمیشہ دعوت کی راہ سے آتی ہے۔ لوگوں کو جوق در جوق دین خدا کے دائرے میں داخل کیا جانا، یہی اللہ کی سب سے بڑی مددہے۔ اور اسی راہ سے اہل دین فتح و غلبہ کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ ( 9-10 ھ) میں وہ حالات پیدا ہوئے جب كہ لوگ بہت بڑی تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوگئے۔ اور اس کے ذریعہ فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ مومن کی فتح اس کے احساس عجز میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اپنے بظاہر صحیح کام پر بھی خدا سے معافی مانگتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی کامیابی کو بھی خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.