Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

102. At-Takaathur

Urdu · 3 min read

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.