Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

99. Az-Zalzala

Urdu · 7 min read

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.