Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

97. Al-Qadr

Urdu · 3 min read

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content