Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

87. Al-A'laa

Urdu · 14 min read

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content