Maulana Wahiduddin Khan
24 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

83. Al-Mutaffifin

Urdu · 24 min read

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.