Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

69. Al-Haaqqa

Urdu · 18 min read

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو یہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق بنائی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طور پر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا کا جلال براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.