← Tazkirul Quran (Urdu)Tazkirul Quran (Urdu)
65. At-Talaaq
Urdu · 6 min read
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it