Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

63. Al-Munaafiqoon

Urdu · 7 min read

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔ جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔ جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔ جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔

منافق آدمی مصلحت پرستی کے ذریعہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ حق ناحق کی بحث میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کا بناؤ رہتا ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس کے جسم کو فربہ بنا دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں ہر ایک اپنے لیے دل چسپی کا سامان پا لیتا ہے۔ مگر یہ بظاہر ہرے بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔

منافق آدمی مصلحت پرستی کے ذریعہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ حق ناحق کی بحث میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کا بناؤ رہتا ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس کے جسم کو فربہ بنا دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں ہر ایک اپنے لیے دل چسپی کا سامان پا لیتا ہے۔ مگر یہ بظاہر ہرے بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔

منافق آدمی مصلحت پرستی کے ذریعہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ حق ناحق کی بحث میں نہیں پڑتا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کا بناؤ رہتا ہے۔ اس کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس کے جسم کو فربہ بنا دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں ہر ایک اپنے لیے دل چسپی کا سامان پا لیتا ہے۔ مگر یہ بظاہر ہرے بھرے درخت حقیقۃً صرف سوکھی لکڑیاں ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہ ہو۔ وہ اندر سے بزدل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کا دنیوی مفاد ہر دینی مفاد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ایمان کے بلند بانگ مدعی ہونے کے باوجود خدا کی ہدایت سے یکسر محروم ہیں۔

قدیم مدینہ میں دو قسم کے مسلمان تھے۔ ایک مہاجر اور دوسرے انصار۔ مہاجرین مکہ سے بے وطن ہو کر آئے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ظاہری سہارا مقامی مسلمان (انصار) تھے۔ اس بنا پر دنیا پرست لوگوں کو مہاجر بے عزت دکھائی دیتے تھے اور انصار ان کی نظر میں باعزت لوگ تھے۔ حتی کہ ایک موقع پر عبداللہ بن ابی نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ان مہاجرین کی حقیقت کیا ہے۔ اگر ہم ان کو اپنی بستی سے نکال دیں تو دنیا میں کہیں ان کو ٹھکانا نہ ملے۔ اس قسم کے الفاظ اسی شخص کی زبان سے نکل سکتے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہے دے اور وہی جس سے چاہے چھین لے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم مدینہ میں دو قسم کے مسلمان تھے۔ ایک مہاجر اور دوسرے انصار۔ مہاجرین مکہ سے بے وطن ہو کر آئے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ظاہری سہارا مقامی مسلمان (انصار) تھے۔ اس بنا پر دنیا پرست لوگوں کو مہاجر بے عزت دکھائی دیتے تھے اور انصار ان کی نظر میں باعزت لوگ تھے۔ حتی کہ ایک موقع پر عبداللہ بن ابی نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ان مہاجرین کی حقیقت کیا ہے۔ اگر ہم ان کو اپنی بستی سے نکال دیں تو دنیا میں کہیں ان کو ٹھکانا نہ ملے۔ اس قسم کے الفاظ اسی شخص کی زبان سے نکل سکتے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہے دے اور وہی جس سے چاہے چھین لے۔

’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content