← Tazkirul Quran (Urdu)Tazkirul Quran (Urdu)
60. Al-Mumtahana
Urdu · 8 min read
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔
جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔
یہاں صلح حدیبیہ کے بعد پیدا شدہ حالات کی روشنی میں اسلام کے بعض ان قوانین کو بتایا گیا ہے جن کا تعلق مسلمان اور غير مسلموں کے درمیان پیش آنے والے عائلی مسائل سے ہے۔
یہاں صلح حدیبیہ کے بعد پیدا شدہ حالات کی روشنی میں اسلام کے بعض ان قوانین کو بتایا گیا ہے جن کا تعلق مسلمان اور غير مسلموں کے درمیان پیش آنے والے عائلی مسائل سے ہے۔
اس آیت میں وہ شرطیں بتائی گئی ہیں جن کا اقرار لے کر کسی عورت کو اسلام میں داخل کیا جاتا ہے۔ ان شرطوں میں دو شرط کی حیثیت بنیادی ہے۔ یعنی شرک نہ کرنا اور رسول کی نافرمانی نہ کرنا۔ باقی تمام مذکور اور غیرمذکور تقاضے اپنے آپ ان دو شرطوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
آسمانی کتاب کو ماننے والے یہود اور اس کو نہ ماننے والے کافر آخرت کے اعتبار سے ایک سطح پر ہیں۔ کھلے ہوئے کافروں کو امید نہیں ہوتی کہ کوئی شخص دوبارہ اپنی قبر سے اٹھے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو یہود کی طرح ایمان لانے کے بعد غفلت اور بے حسی میں مبتلا ہوگئے ہوں۔ آخرت کا لفظی اقرار کرنے کے باوجود ان کی عملی زندگی ویسی ہی ہوجاتی ہے جیسی کھلے ہوئے منکرین کی زندگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔
جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔
جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔
عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔
عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔
عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔
عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے وہ ہر ایک سے کیا جائے گا، خواہ فریق ثانی دشمن ہو یا غیر دشمن۔ مگر دوستی کا تعلق ہر ایک سے درست نہیں۔ دوستی صرف اسی کے ساتھ جائز ہے جو اللہ کا دوست ہو یا کم از کم یہ کہ وہ اللہ کا دشمن نہ ہو۔
جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے وہ ہر ایک سے کیا جائے گا، خواہ فریق ثانی دشمن ہو یا غیر دشمن۔ مگر دوستی کا تعلق ہر ایک سے درست نہیں۔ دوستی صرف اسی کے ساتھ جائز ہے جو اللہ کا دوست ہو یا کم از کم یہ کہ وہ اللہ کا دشمن نہ ہو۔