Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

58. Al-Mujaadila

Urdu · 13 min read

اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ أنتِ عليَّ كظَهْر أمِّي (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام ہوجاتی۔ اس کو ظہار کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے ایک مسلمان اوس بن صامت انصاری نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایک بار یہی لفظ کہہ دیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بتایا۔ آپ نے قدیم رواج کے اعتبار سے فرما دیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔ خولہ کو پریشانی ہوئی کہ میرا گھر اور میرے بچے برباد ہوجائیں گے۔ وہ فریاد و زاری کرنے لگیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور بتایا گیا کہ ظہار کے بارے میں اسلامی حکم کیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی لوگ ملیں جو فی الواقع سنجیدہ مقصد کے تحت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ غیر ضروری قسم کے لوگ چھانٹ دئے جائیں جو اپنی بے فائدہ باتوں سے صرف وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس ليے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔ یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی لوگ ملیں جو فی الواقع سنجیدہ مقصد کے تحت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ غیر ضروری قسم کے لوگ چھانٹ دئے جائیں جو اپنی بے فائدہ باتوں سے صرف وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس ليے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔ یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

اس دنیا میں کامیابی حزبُ اللہ کے ليے ہے۔ حزب اللہ ( اللہ کی جماعت) کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان سب سے بڑی حقیقت کے طور پر راسخ ہوگیاہو۔ جن کو اللہ سے اتنی گہری نسبت حاصل ہو کہ ان کو اللہ کی طرف سے روحانی فیض پہنچنے لگے۔ پھر یہ کہ خدائی حقیقتوں سے ان کی وابستگی اتنی گہری ہو کہ اسی کی بنیاد پر ان کی دوستیاں اور دشمنیاں قائم ہوں۔ وہ سب سے زیادہ ان لوگوں سے قریب ہوں جو خدائی صداقت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور جو لوگ خدائی صداقت سے دور ہیں وہ بھی ان سے دور ہو جائیں ، خواه وہ ان کے اپنے عزیز اور رشتہ دار کیوں نہ ہوں۔

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حق کی مخالفت کرنا خدا کی مخالفت کرنا ہے۔ اور خدا کی مخالفت کرنا اس ہستی کی مخالفت کرنا ہے جس سے مخالفت کرکے آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ خدا سے آدمی نہ اپنی کسی چیز کو چھپا سکتا اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

حق کی مخالفت کرنا خدا کی مخالفت کرنا ہے۔ اور خدا کی مخالفت کرنا اس ہستی کی مخالفت کرنا ہے جس سے مخالفت کرکے آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ خدا سے آدمی نہ اپنی کسی چیز کو چھپا سکتا اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔ بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔ بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content