Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Shahinshaa akbar ki walida.

Urdu · 3 min

شہنشاہ اکبر کی والدہ، ملا عبدالنبی، وفات 991 ہجری، شہنشاہ اکبر کے زمانے کے بڑے علما میں سے ایک تھے۔ ان کی بنوائی ہوئی ایک مسجد اب بھی نئی دہلی میں بہادر شاہ ظفر مارگ کے کنارے موجود ہے، جو مسجد عبدالنبی کے نام سے مشہور ہے۔ ملا عبدالنبی شہنشاہ اکبر کے استاد تھے، اس بنا پر وہ اکبر کے دربار میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے۔ اکبر نے ملا عبدالنبی کو حکومت میں صدرالصدور کے عہدے پر فائز کیا تھا۔

اکبر سے خصوصی تعلق کی بنا پر ملا عبدالنبی کو اس زمانے میں نہایت عزت کا مقام حاصل ہوا۔ ملا عبدالقادر بدایونی کا بیان ہے کہ منصب صدارت کو کسی سلطنت میں وہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی جو ملا عبدالنبی کے زمانے میں اسے حاصل تھی۔ «در زمانِ ہیچ بادشاهی این چونی صدرِ بااستقلال نگذشتد. » اکبر کو ملا عبدالنبی سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ ان کے جوتے سیدھا کرتا تھا، ان کے مکان پر جا کر ان سے حدیث سنتا تھا۔

ملا عبدالنبی کی صحبت سے اس کی مذہبیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ مسجد میں خود اذان دیتا تھا اور ثواب کی خاطر بعض اوقات مسجد میں جھاڑو بھی دیتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اس کی سالگرہ کی تقریب تھی، اکبر نے اپنی مشہور پالیسی کے مطابق اس دن جو کپڑا پہنا تھا وہ زعفرانی رنگ، یعنی گیروے رنگ کا کپڑا تھا۔ ملا عبدالنبی نے اس کو دیکھا تو وہ اس کو ہندوانہ رنگ سمجھ کر غصہ ہو گئے اور بھرے دربار میں اکبر کو اپنے عصا سے مار دیا۔ اکبر کو اس پر ناگواری ہوئی، مگر وہ خاموشی سے اٹھ کر محل کے اندر چلا گیا۔

محل کے اندر اس کی ماں مریم مکانی موجود تھیں۔ اس نے اپنی ماں سے کہا کہ ملا عبدالنبی نے آج بھرے دربار میں مجھ کو مارا، اگر وہ تنہائی میں مجھ کو نصیحت کرتے تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ اکبر کی ماں مریم مکانی ایک ذہین اور صاحبِ علم خاتون تھیں۔ انہوں نے اکبر کی بات سن کر کہا، "بیٹے، دل میں میل نہ لانا، یہ تمہارے لیے نجاتِ آخرت کا ذریعہ ہے۔

" قیامت تک چرچا رہے گا کہ ایک بے اختیار ملا نے بادشاہ کے ساتھ یہ حرکت کی، اور سعادت مند بادشاہ نے اس پر صبر کر لیا۔ مَأْثَرُ الْأُمَرَاءِ جلد 2، صفحہ 560 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی ذہن سازی میں عورت کا کردار بے حد اہم ہے۔ کتاب "تربیتِ اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.