Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Istehqaaq paida kijiye.

Urdu · 9 min

استحقاق پیدا کیجیے۔ ایم اے خان ہائر سیکنڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے، مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے، یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آ گیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت نہ تھی، تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندو سائنس کالج کے پرنسپل کے دفتر میں لے گیا۔ جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔

انہوں نے ہندو پرنسپل سے کہا، "یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں، اب کیسے تمہارا داخلہ ہوگا؟ " بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں، ورنہ میرا پورا سال بے کار ہو جائے گا۔ ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں، اب مزید داخلے کی کوئی گنجائش نہیں۔ پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا، اور اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ "کمرے سے نکل جاؤ"۔

مگر طالب علم کے اصرار پر اس نے بددلی سے پوچھا، "تمہارے مارکس کتنے ہیں؟ " پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے، اس لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چنانچہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجے کو بتائے گا تو اس کی درخواست کو رد کرنے کے لیے معقول وجاہات آ جائیں گی۔ مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا، اس نے کہا، "جناب، 85 فیصد۔

" سر، 85 پرسنٹ۔ اس جملے نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا، فوراً اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا، "بیٹھو، بیٹھو۔ " اس کے بعد اس نے طالب علم کے کاغذات دیکھے، اور جب کاغذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ 85 فیصد نمبروں سے پاس ہوا ہے، تو اسی وقت اس نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔

اس نے ایم اے خان کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا، بلکہ کوشش کر کے ان کو ایک وظیفہ بھی دلوایا۔ یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس میں پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا، تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا؟ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے، ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔

داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا، مگر اس کا ذمہ دار وہ ہندو کالج کو قرار دیتا۔ ماحول کا ردعمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے، مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کر سکیں۔ اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ ان تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانے نے مقرر کی ہیں، تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔

مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوگی، وہ اپنے تجربات سے جرات، اعتماد، عالی حوصلگی، شرافت، دوسروں کا اعتراف، حقیقت پسندی، ہر ایک سے صحیح انسانی تعلق کا سبق سیکھے گا۔ وہ شکایت کی نفسیات سے بلند ہو کر سوچے گا، ماحول اس کو تسلیم کرے گا، اس لیے وہ خود بھی ماحول کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر اس نے اپنے کو اہل ثابت کرنے میں کوتاہی کی ہو، اگر وہ وقت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو، اگر وہ کمتر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو، تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا، اور اس کے نتیجے میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی، وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجھلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگرچہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے، مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرائے۔ وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ وہ صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

کمتر تیاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے: اپنے لیے بے جا طور پر ناکامی اور دوسروں کے بارے میں بے جا طور پر شکایت۔ پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے، البتہ وہ اس آدمی کے لیے نرم ہو جاتا ہے جو اس کو توڑنے کا اوزار رکھتا ہو۔ یہی صورت ہر معاملے میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہوں، تو آپ اپنی واقعی حیثیت سے بھی زیادہ حق اپنے لیے وصول کر سکتے ہیں۔

وقت گزرنے کے بعد بھی ایک اجنبی کالج میں آپ کا داخلہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کو اپنا واقعی حق بھی نہیں مل سکتا۔ گیس نیچے نہیں سماتی تو اوپر اٹھ کر اپنے لیے جگہ حاصل کرتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح کے اوپر قائم نہیں ہو سکتا تو وہ زمین پھاڑ کر اس سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کر لیتا ہے۔

یہ طریقہ جو غیر انسانی دنیا میں خدا نے اپنے براہ راست انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے، وہی انسان کو بھی اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کرنا ہے۔ ہر آدمی جو دنیا میں اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہو، اس کو سب سے پہلے اپنے اندر کامیابی کا استحقاق پیدا کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے، اور پھر اپنے حالات کو سمجھے، اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے منظم کرے۔ جب وہ ماحول کے اندر داخل ہو تو اس طرح داخل ہو کہ اس کے مقابلے میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کر چکا ہو۔

اس نے حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے ضروری سامان کر لیا ہو۔ اگر یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد آپ کے عمل کا جو دوسرا لازمی نتیجہ سامنے آئے گا، وہ وہی ہوگا جس کا نام ہماری زبان میں کامیابی ہے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 70۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.