Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Tarbiyat-e-aulaad.

Urdu · 7 min

تربیتِ اولاد: حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں کہ وہ اس کو اچھے آداب سکھائے۔ " یعنی ما نحل والد ولدًا من نحل أفضل من أدب حسن. سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952۔

اس حدیث میں بظاہر صرف والد کا ذکر ہے، مگر طبعًا اس سے مراد والد اور والدہ دونوں ہیں۔ نیز "ادب" کا لفظ یہاں تعلیم و تربیت کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ہے، خواہ وہ مذہبی نوعیت کی چیزیں ہوں یا دنیاوی نوعیت کی چیزیں۔ عورت اور مرد کو فطری طور پر اپنی اولاد سے غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس محبت کا بہترین استعمال کیا ہے، یا کیا ہونا چاہیے۔

وہ استعمال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو آدابِ زندگی سکھائیں، وہ اپنے بچوں کو بہتر انسان بنا کر دنیا کے کارزار میں داخل کریں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محبت کا استعمال زیادہ تر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جو چاہے وہ اس کے لیے حاضر کر دیا جائے۔ یہی بچے کے لیے محبت کا سب سے زیادہ بڑا استعمال ہے۔

مگر یہ بچوں کے حق میں خیرخواہی نہیں۔ چھوٹا بچہ اپنی خواہشوں کے سوا کچھ اور نہیں جانتا۔ اس کی سوچ بس بس یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں جو خواہش آئے وہ فوراً پوری ہو جائے۔ مگر یہ طفلانہ سوچ ہے۔

کیونکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچہ ایک دن بڑا ہوگا۔ وہ بڑا ہو کر دنیا کے میدان میں داخل ہوگا۔ زندگی کے اس اگلے مرحلے میں کامیاب ہونے کے لیے بچے کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ وہ آدابِ حیات سے مسلح ہو کر وہاں پہنچا ہو۔ بچہ جب بالکل چھوٹا ہو، اسی وقت سے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے، تاکہ یہ چیزیں عادت بن کر اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔

زندگی کے ان آداب کے تین خاص پہلو ہیں: دین، اخلاق، اور ڈسپلن۔ دین کے اعتبار سے بچے کی تربیت کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے، جبکہ اس کے کان میں اذان کی آواز داخل کی جاتی ہے۔ یہ علامتی انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ بچے کو دیندار بنانے کا عمل آغازِ عمر ہی سے شروع کر دینا ہے۔ یہ کام ماں اور باپ دونوں کو کرنا ہے۔

والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچے کے اندر توحید اور اسلامی عقائد خوب پختہ ہو جائیں۔ ذکر اور عبادت اس کی زندگی کے لازمی اجزا بن کر اس کی شخصیت میں شامل ہو جائیں۔ وہ نماز، روزے کا پابند ہو۔ صدقہ اور خیرات کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے۔

قرآن اور حدیث سے اس کو اس قدر شغف ہو جائے کہ وہ روزانہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مطالعہ کرنے لگے۔ اس کو دیکھ کر ہر آدمی یہ کہہ دے کہ یہ بچہ ایک دیندار بچہ ہے۔ اخلاق کی تربیت کی صورت یہ ہے کہ ہر موقع پر بچے کو سکھایا جائے۔ اگر وہ غلطی کرے تو اس کو ٹوکا جائے، حتیٰ کہ اگر ضرورت ہو تو اس کی تنبیہ کی جائے۔

بھائی بہنوں میں لڑائی ہو تو فوراً سمجھایا جائے۔ اگر کبھی بچہ جھوٹ بولے یا کسی کو گالی دے، یا کسی کی چیز چرا لے، تو نہایت سختی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے۔ اور یہ سب بالکل بچپن سے کیا جائے، تاکہ بچے کو زندگی میں یہ چیزیں مستقل کردار کے طور پر شامل ہو جائیں۔ یہی طریقہ ڈسپلن کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔

بچے کو اوقات کی پابندی سکھائی جائے۔ چیزوں کو صحیح جگہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ کھانا پینا باقاعدہ وقت کے ساتھ ہو۔ اگر وہ کوئی کاغذ یا تھیلی سڑک پر پھینک دے تو فوراً اسی سے اس کو اٹھوایا جائے۔

شور کرنے سے روکا جائے۔ ہر ایسی چیز سے بچنے کی تلقین کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو۔ بچے کی حقیقی تربیت کے لیے خود ماں باپ کو اپنا طرزِ زندگی اس کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے بچے سے کہیں کہ جھوٹ نہ بولو، اسی کے ساتھ آپ یہ کریں کہ جب کوئی شخص دروازے پر دستک دے تو کہلوا دیں کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہے۔

تو ایسی حالت میں بچے کو جھوٹ سے روکنا بے معنی ہوگا۔ اگر آپ سگریٹ پیتے ہوں تو بچے کے سامنے اسموکنگ کے خلاف تقریر کرنا بے معنی ہے۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کرتے ہوں اور بچے سے کہیں کہ بیٹے، ہمیشہ وعدہ پورا کرو، تو کبھی ایسی نصیحت کو نہیں پکڑے گا۔ بچہ اپنے والدین کو ماڈل کے روپ میں دیکھتا ہے۔

اسی طرح بڑا بچہ چھوٹے بچوں کے لیے ماڈل ہوتا ہے۔ اگر والدین اور بڑا بچہ ٹھیک ہوں تو بقیہ بچے اپنے آپ سدھرتے چلے جائیں گے۔ کتاب "تربیتِ اولاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.